حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان بن الحارث الواسطي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا زَمْعة بن صالح، عن سَلَمة بن وَهْرام، عن عِكْرمة عن ابن عباس: أنه صلَّى على بِسَاط ثم قال: صلَّى رسول الله ﷺ على بِسَاط (3).
هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعِكْرمة، واحتجَّ مسلم بزَمْعة، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعِكْرمة، واحتجَّ مسلم بزَمْعة، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک قالین پر نماز پڑھی اور فرمایا: "رسول اللہ ﷺ نے بھی قالین پر نماز پڑھی ہے۔"
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عِيَاض بن عبد الله القُرشي، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا صلَّى أحدُكم فليَلبَسْ نَعلَيهِ أو ليَجعَلْهما بين رِجلَيه، ولا يُؤْذي بهما غيرَه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 952 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 952 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے پہن کر پڑھے یا انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھ لے، ان کے ذریعے کسی دوسرے کو تکلیف نہ دے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا ابن جُرَيج، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر، عن أبي سلمة بن سفيان، عن عبد الله بن السائب قال: حضرتُ رسولَ الله ﷺ عامَ الفتح فصلَّى الصبحَ فخَلَعَ نَعلَيهِ فوضعهما عن يسارِه (1).
هذا حديث يُعرَف بمحمد بن عبَّاد بن جعفر، أخرجتُه شاهدًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 953 - أخرجته شاهدا
هذا حديث يُعرَف بمحمد بن عبَّاد بن جعفر، أخرجتُه شاهدًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 953 - أخرجته شاهدا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن السائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی اور اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے، شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے، شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔