کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ نے کوّے کی چونچ کی طرح جلدی ٹھونگ مارنے، درندے کی طرح بازو بچھانے اور آدمی کے کسی جگہ کو اونٹ کی طرح مستقل ٹھکانہ بنا لینے سے منع فرمایا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغاني، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني أَبي، عن تَمِيم بن محمود، عن عبد الرحمن بن شِبْل قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن نَقْرة الغُراب، وافتراشِ السَّبُع، وأن يُوطِنَ الرجلُ المكانَ كما يُوطِنُه البعيرُ (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه لما قدَّمتُ ذِكرَه من التفرُّد عن الصحابة بالرواية (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 833 - صحيح تفرد تميم عن ابن شبل_x000D_ حَدَّثَنَا
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه لما قدَّمتُ ذِكرَه من التفرُّد عن الصحابة بالرواية (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 833 - صحيح تفرد تميم عن ابن شبل_x000D_ حَدَّثَنَا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوا کی طرح ٹھونگیں مارنے (نماز میں جلدی کرنے)، درندے کی طرح ہاتھ پھیلانے اور مسجد میں اونٹ کی طرح ایک ہی جگہ کو ٹھکانہ بنا لینے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے صرف اس لیے اسے نہیں لیا کیونکہ اس میں صحابی سے روایت کرنے والے اکیلے ہیں۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے صرف اس لیے اسے نہیں لیا کیونکہ اس میں صحابی سے روایت کرنے والے اکیلے ہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا شعيب بن الليث بن سعد، حدثنا أَبي، عن محمد بن عَجْلان، عن سُمَيٍّ مولى أبي بكر، عن أبي صالح عن أبي هريرة أنه قال: شَكَا أصحابُ رسول الله ﷺ مَشَقَّةَ السجود عليهم إذا انفَرَجُوا، فقال: "استَعِينوا بالرُّكَب". قال ابن عَجْلانَ: وذلك أن يَضَعَ مِرفَقَيهِ على رُكْبتيه إذا أطال السجودَ ودَعَا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 834 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 834 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے آپ ﷺ سے سجدے میں (بازو پھیلا کر رکھنے کی وجہ سے) ہونے والی مشقت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "گھٹنوں سے مدد لو۔" ابن عجلان کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب سجدہ طویل ہو جائے اور دعا کرنی ہو تو اپنی کہنیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أبو صالح الحَكَم بن موسى القَنطَري، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عبد الله بن أبي قَتَادة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "أسوأُ الناسِ سرقةً الذي يَسرِقُ صلاتَه" قالوا: يا رسول الله، كيف يسرقُ صلاتَه؟ قال: "لا يُتِمُّ ركوعَها ولا سجودَها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما لم يخرجاه لخلافٍ فيه بين كاتب الأوزاعي والوليد بن مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 835 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما لم يخرجاه لخلافٍ فيه بين كاتب الأوزاعي والوليد بن مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 835 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگوں میں سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے۔" صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ اپنی نماز میں کیسے چوری کرتا ہے؟ فرمایا: "وہ اس کے رکوع اور سجدے پورے نہیں کرتا۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میرے نزدیک اس کی وجہ اوزاعی کے کاتب اور ولید بن مسلم کے درمیان پایا جانے والا اختلاف ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میرے نزدیک اس کی وجہ اوزاعی کے کاتب اور ولید بن مسلم کے درمیان پایا جانے والا اختلاف ہے۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا هشام بن عمّار، حدثنا عبد الحميد بن أبي العِشْرِين، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، حدثني أبو سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ أسوأَ الناسِ سرقةً الذي يَسرِقُ صلاتَه" قالوا: يا رسول الله، وكيف يسرقُ صلاتَه؟ قال: "لا يُتِمُّ ركوعَها وسجودَها" (1). كلا الإسنادين صحيحان، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔" عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ نماز سے کیسے چوری کرتا ہے؟ فرمایا: "وہ اس کے رکوع اور سجدے پورے نہیں کرتا۔"
یہ دونوں اسناد صحیح ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ دونوں اسناد صحیح ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔