المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ كَمَا يُوطِّنُهُ الْبَعِيرُ باب: رسولُ اللہ ﷺ نے کوّے کی چونچ کی طرح جلدی ٹھونگ مارنے، درندے کی طرح بازو بچھانے اور آدمی کے کسی جگہ کو اونٹ کی طرح مستقل ٹھکانہ بنا لینے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 929
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغاني، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني أَبي، عن تَمِيم بن محمود، عن عبد الرحمن بن شِبْل قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن نَقْرة الغُراب، وافتراشِ السَّبُع، وأن يُوطِنَ الرجلُ المكانَ كما يُوطِنُه البعيرُ (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه لما قدَّمتُ ذِكرَه من التفرُّد عن الصحابة بالرواية (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 833 - صحيح تفرد تميم عن ابن شبل_x000D_
حَدَّثَنَاحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوا کی طرح ٹھونگیں مارنے (نماز میں جلدی کرنے)، درندے کی طرح ہاتھ پھیلانے اور مسجد میں اونٹ کی طرح ایک ہی جگہ کو ٹھکانہ بنا لینے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے صرف اس لیے اسے نہیں لیا کیونکہ اس میں صحابی سے روایت کرنے والے اکیلے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده فيه لين من أجل تميم بن محمود. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل.
درجۂ حدیث: (1) تمیم بن محمود کی وجہ سے سند میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔
فنی نکتہ: ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد النبیل ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15532) و (15667)، وابن ماجه (1429)، وابن حبان (2277) من طرق عن عبد الحميد بن جعفر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (15532/24 وغیرہ)، ابن ماجہ (1429) اور ابن حبان (2277) نے عبدالحمید بن جعفر کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (15533)، وأبو داود (862)، والنسائي (700) من طريقين عن جعفر والد عبد الحميد، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (15533)، ابوداؤد (862) اور نسائی نے جعفر (عبدالحمید کے والد) کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
(2) انظر التعليق على هذه المسألة عند الحديث (97).
اہم نکتہ: (2) اس مسئلے پر بحث سابقہ حدیث نمبر (97) کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: (1) تمیم بن محمود کی وجہ سے سند میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔
فنی نکتہ: ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد النبیل ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15532) و (15667)، وابن ماجه (1429)، وابن حبان (2277) من طرق عن عبد الحميد بن جعفر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (15532/24 وغیرہ)، ابن ماجہ (1429) اور ابن حبان (2277) نے عبدالحمید بن جعفر کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (15533)، وأبو داود (862)، والنسائي (700) من طريقين عن جعفر والد عبد الحميد، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (15533)، ابوداؤد (862) اور نسائی نے جعفر (عبدالحمید کے والد) کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
(2) انظر التعليق على هذه المسألة عند الحديث (97).
اہم نکتہ: (2) اس مسئلے پر بحث سابقہ حدیث نمبر (97) کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 929 سے ماخوذ ہے۔