کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رسولُ اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عَبْد الله بن عبد الله بن الأصَمِّ، عن عمِّه يزيد بن الأصمِّ، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا سَجَدَ رُئِيَ وَضَحُ إِبْطَيه (1).
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه. ورواه ابن عُيَينة، فخالف عبدَ الواحد فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 830 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ فرماتے تو آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی صاف نظر آتی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 926
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري» [ترقيم الرساله 926] [ترقيم الشركة 836] [ترقيم العلميه 830]
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا سفيان، عن ابن الأصمِّ، عن عمِّه، عن ميمونةَ قالت: كان رسول الله ﷺ إذا سجد لو شاءت بَهْمةٌ أن تمرَّ بين يديه لمرَّت (2).
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ فرماتے تو (اپنے بازو اتنے پھیلاتے) کہ اگر بکری کا کوئی بچہ آپ ﷺ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر سکتا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 927] [ترقيم الشركة 837]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أبو بكر محمد بن عيسى الطَّرَسُوسي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني عُمَارة بن غَزِيَّة قال: سمعت أبا النَّضْر يقول: سمعت عُرْوةَ بن الزُّبير يقول: قالت عائشة زوجُ النبي ﷺ: فَقَدتُ رسولَ الله ﷺ وكان معي على فِراشي، فَوَجَدتُه ساجدًا راصًّا عَقِبَيهِ مستقبِلًا بأطراف أصابعه القِبلَة، فسمعته يقول: "أعوذُ برِضاكَ من سَخَطِك، وبعَفْوِك من عقوبتِك، وبك منك، أُثْني عليك لا أَبْلُغُ كل ما فيك" فلما انصرف قال: "يا عائشة، أخَذَكِ شيطانُك" فقلت: أمَا لك شيطان؟ قال: "ما من آدميٍّ إلَّا له شيطانٌ" فقلت: وأنت يا رسول الله؟ قال: "وأنا، لكنِّي دَعَوتُ اللهَ عليه فأسلَمَ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، لا أعلمُ أحدًا ذكر ضمَّ العَقِبين في السجود غيرَ ما في هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 832 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ بستر پر میرے ساتھ تھے کہ میں نے آپ ﷺ کو نہ پایا، میں نے دیکھا تو آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے، آپ ﷺ نے اپنی ایڑیاں آپس میں ملائی ہوئی تھیں اور آپ کی مبارک انگلیوں کے سرے قبلہ رخ تھے، میں نے آپ ﷺ کو یہ پڑھتے سنا: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِي عَلَيْكَ لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ» "(اے اللہ!) میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے، اور تیرے عفو کے ذریعے تیری سزا سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں، میں تیری ویسی تعریف نہیں کر سکتا جیسی تو نے خود اپنی فرمائی ہے۔" جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: "اے عائشہ! تمہارا شیطان تمہارے پاس آ گیا تھا۔" میں نے عرض کیا: کیا آپ کے ساتھ شیطان نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے۔" میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، لیکن میں نے اس کے خلاف اللہ سے دعا کی تو وہ مسلمان ہو گیا۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ سجدے میں ایڑیاں ملانے کا ذکر صرف اسی روایت میں ملتا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 928
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 928] [ترقيم الشركة 838] [ترقيم العلميه 832]