المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ كَمَا يُوطِّنُهُ الْبَعِيرُ باب: رسولُ اللہ ﷺ نے کوّے کی چونچ کی طرح جلدی ٹھونگ مارنے، درندے کی طرح بازو بچھانے اور آدمی کے کسی جگہ کو اونٹ کی طرح مستقل ٹھکانہ بنا لینے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 932
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا هشام بن عمّار، حدثنا عبد الحميد بن أبي العِشْرِين، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، حدثني أبو سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ أسوأَ الناسِ سرقةً الذي يَسرِقُ صلاتَه" قالوا: يا رسول الله، وكيف يسرقُ صلاتَه؟ قال: "لا يُتِمُّ ركوعَها وسجودَها" (1). كلا الإسنادين صحيحان، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔" عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ نماز سے کیسے چوری کرتا ہے؟ فرمایا: "وہ اس کے رکوع اور سجدے پورے نہیں کرتا۔"
یہ دونوں اسناد صحیح ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده جيد.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند جید (بہتر) ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1888) عن القطان - وهو الحسين بن عبد الله بن يزيد عن هشام بن عمار، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1888) نے ہشام بن عمار کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند جید (بہتر) ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1888) عن القطان - وهو الحسين بن عبد الله بن يزيد عن هشام بن عمار، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1888) نے ہشام بن عمار کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 932 سے ماخوذ ہے۔