کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس نے ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی۔
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا نافع بن يزيد، حدثني يحيى بن أبي سليمان، عن زيد أبي عَتَّاب وسعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا جئتُم ونحن سجودٌ فاسجُدوا ولا تَعُدُّوها شيئًا، ومن أدرَكَ الركعةَ فقد أدرَكَ الصلاة" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ويحيى بن أبي سليمان من ثِقَات المِصريِّين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 783 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم (نماز کے لیے) آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرو لیکن اسے (رکعت میں) شمار نہ کرو، اور جس نے رکوع پا لیا اس نے نماز (رکعت) پا لی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی یحییٰ بن ابی سلیمان ثقہ مصری ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 878
درجۂ حدیث محدثین: إسناده فيه ضعف للين يحيى بن أبي سليمان
تخریج حدیث «إسناده فيه ضعف للين يحيى بن أبي سليمان، إلَّا أنَّ قوله: "ومن أدرك … إلخ" صحيح ، من غير هذا الوجه عند أبي هريرة كما سيأتي بيانه عند الحديث رقم (1089)» [ترقيم الرساله 878] [ترقيم الشركة 788] [ترقيم العلميه 783]
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا عبد الله بن فَرُّوخ، أخبرنا ابن جُرَيج، عن عطاءٍ، عن أنس بن مالك قال: كان رسول الله ﷺ أخفَّ الناس صلاةً في تمام، قال: وصلَّيتُ مع رسول الله ﷺ فكان ساعةَ يُسلِّمُ يقوم، ثم صلَّيتُ مع أبي بكر فكان إذا سَلَّمَ وَثَبَ مكانَه كأنه يقوم عن رَضْفٍ (2).
هذا حديث صحيحٌ رواتُه غير عبد الله بن فرُّوخ، فإنهما لم يُخرجاه لا لجرحٍ فيه. وهذه سُنَّة مُستعمَلة لا أحفظُ لها غيرَ هذا الإسناد، وحديث هند بنت الحارث عن أم سلمة: كنَّ النساءُ على عهد رسول الله ﷺ إذا صلَّى المكتوبةَ قُمْنَ، قد أخرجه البخاري (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی (مختصر) مگر مکمل نماز پڑھانے والے تھے، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ سلام پھیرتے ہی کھڑے ہو جاتے تھے، پھر میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ بھی سلام پھیرتے ہی اس طرح تیزی سے اٹھتے گویا وہ گرم پتھروں پر بیٹھے ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اسے کسی جرح کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف ایک راوی کی وجہ سے شیخین نے نہیں لیا، یہ ایک معمول کی سنت ہے جس کی سند یہی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 879
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، عبد الله بن فروخ - وهو الخراساني - صاحب مناكير، حسَّن القولَ فيه بعض أهل العلم، وقال البخاري فيه: تعرف وتنكر وقال الجوزجاني: أحاديثه مناكير، وذكره ابن حبان في "ثقاته" وقال: ربما خالف- قلنا: قد خالفه في إسناد هذا الحديث عبدُ الرزاق الإمام الثقة فرواه في "مصنفه" (3231) ...» [ترقيم الرساله 879] [ترقيم الشركة 789]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا عبد الحميد بن سليمان، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد قال: كنت أَراه يقدِّم فِتيانًا من فتيانِ قومِه فيصلُّون به، فقلت: أنت صاحبُ رسول الله ﷺ، ولك من الفضل والسابقةِ، تُقدِّمُ هؤلاء الصبيانَ فيصلُّون بك، أفلا تتقدَّمُ فتصلِّيَ لقومك، فقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ الإمامَ ضامنٌ، فإن أتَمَّ كانت له ولهم، وإن نَقَصَ كان عليه ولا عليهم"، فلا أريدُ أن أتحمَّلَ ذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 785 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھا گیا کہ وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کو امامت کے لیے آگے کرتے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور آپ کی بڑی فضیلت ہے، پھر بھی آپ ان نوجوانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”امام (نماز کا) ضامن ہے، اگر اس نے مکمل نماز پڑھائی تو اجر اس کے لیے بھی ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر اس نے کوئی کمی کی تو اس کا وبال اسی پر ہے مقتدیوں پر نہیں،“ اور میں اس کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لینا چاہتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 880
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الحميد بن سليمان» [ترقيم الرساله 880] [ترقيم الشركة 790] [ترقيم العلميه 785]
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضرَمي، حدثنا أبو هشام الرِّفاعي، حدثنا أبو خالد الأحمَرُ، عن الحسن بن عُبيد الله النَّخَعي، عن طلحة بن مُصرِّف، عن عبد الرحمن بن عَوْسَجة، عن البَراء بن عازِبٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "تَراصُّوا في الصفِّ لا يَتخلَّلُكم أولادُ الحَذَفِ" قلت: يا رسول الله، ما أولادُ الحَذَف؟ قال: "ضَأْنٌ جُرْدٌ سُودٌ تكون بأرضِ اليمن" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 786 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صفوں میں مل کر کھڑے ہو جایا کرو تاکہ تمہارے درمیان 'اولاد الحذف' (حذف کے بچے) داخل نہ ہوں۔“ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! 'اولاد الحذف' کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ چھوٹے، بے بال اور سیاہ رنگ کے مینڈھے ہیں جو یمن کی سرزمین میں ہوتے ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 881
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي هشام الرفاعي - وهو محمد بن يزيد بن محمد - لكنه لم ينفرد به فقد توبع- أبو خالد الأحمر: هو سليمان بن حيان، وهو لا بأس به، وقد توبع أيضًا، تابعه حفص بن غياث عند البيهقي 3/ 101-» [ترقيم الرساله 881] [ترقيم الشركة 791] [ترقيم العلميه 786]