المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ باب: جس نے ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی۔
حدیث نمبر: 878
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا نافع بن يزيد، حدثني يحيى بن أبي سليمان، عن زيد أبي عَتَّاب وسعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا جئتُم ونحن سجودٌ فاسجُدوا ولا تَعُدُّوها شيئًا، ومن أدرَكَ الركعةَ فقد أدرَكَ الصلاة" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ويحيى بن أبي سليمان من ثِقَات المِصريِّين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 783 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم (نماز کے لیے) آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرو لیکن اسے (رکعت میں) شمار نہ کرو، اور جس نے رکوع پا لیا اس نے نماز (رکعت) پا لی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی یحییٰ بن ابی سلیمان ثقہ مصری ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده فيه ضعف للين يحيى بن أبي سليمان، إلَّا أنَّ قوله: "ومن أدرك … إلخ" صحيح
من غير هذا الوجه عند أبي هريرة كما سيأتي بيانه عند الحديث رقم (1089).
درجۂ حدیث: (4) یحییٰ بن ابی سلیمان کی کمزوری (لین) کی وجہ سے سند ضعیف ہے، اہم نکتہ: مگر یہ جملہ "جس نے (رکوع) پایا..." حضرت ابوہریرہ سے دیگر صحیح طریقوں سے ثابت ہے (حدیث نمبر 1089)۔
وأخرجه أبو داود (893) عن محمد بن يحيى بن فارس - وهو الذُّهلي - عن سعيد بن الحكم - وهو ابن أبي مريم - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (893) نے محمد بن یحییٰ الذہلی عن سعید بن الحکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (1025) من طريق ابن أبي مسرّة عن ابن أبي مريم، وانظر (1026) و (1027).
تکرار: یہ آگے نمبر (1025) پر ابن ابی مسرہ کے طریق سے آئے گی، نیز نمبر (1026، 1027) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
(1) هذا تساهل منه ﵀، وكذا فعل ابن حبان فذكر يحيى هذا في "ثقاته"، وقد تكلَّم فيه أبو حاتم الرازي فقال: مضطرب الحديث ليس بالقوي يكتب حديثه، وقال البخاري في كتابه "القراءة خلف الإمام" بعد أن ذكر له هذا الحديث (239): ويحيى منكر الحديث … ولم يتبيَّن سماعه من زيد ولا من ابن المقبري، ولا تقوم به الحجة.
راوی پر جرح: (1) یہ مصنف کی تساہل پسندی ہے؛ ابن حبان نے بھی یحییٰ کو ثقات میں ذکر کیا ہے، مگر ابوحاتم رازی نے انہیں مضطرب الحدیث اور غیر قوی کہا ہے۔ امام بخاری نے بھی انہیں "منکر الحدیث" قرار دیا اور کہا کہ ان کا زید یا ابن مقبری سے سماع ثابت نہیں، لہٰذا ان سے حجت قائم نہیں ہوتی۔
من غير هذا الوجه عند أبي هريرة كما سيأتي بيانه عند الحديث رقم (1089).
درجۂ حدیث: (4) یحییٰ بن ابی سلیمان کی کمزوری (لین) کی وجہ سے سند ضعیف ہے، اہم نکتہ: مگر یہ جملہ "جس نے (رکوع) پایا..." حضرت ابوہریرہ سے دیگر صحیح طریقوں سے ثابت ہے (حدیث نمبر 1089)۔
وأخرجه أبو داود (893) عن محمد بن يحيى بن فارس - وهو الذُّهلي - عن سعيد بن الحكم - وهو ابن أبي مريم - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (893) نے محمد بن یحییٰ الذہلی عن سعید بن الحکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (1025) من طريق ابن أبي مسرّة عن ابن أبي مريم، وانظر (1026) و (1027).
تکرار: یہ آگے نمبر (1025) پر ابن ابی مسرہ کے طریق سے آئے گی، نیز نمبر (1026، 1027) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
(1) هذا تساهل منه ﵀، وكذا فعل ابن حبان فذكر يحيى هذا في "ثقاته"، وقد تكلَّم فيه أبو حاتم الرازي فقال: مضطرب الحديث ليس بالقوي يكتب حديثه، وقال البخاري في كتابه "القراءة خلف الإمام" بعد أن ذكر له هذا الحديث (239): ويحيى منكر الحديث … ولم يتبيَّن سماعه من زيد ولا من ابن المقبري، ولا تقوم به الحجة.
راوی پر جرح: (1) یہ مصنف کی تساہل پسندی ہے؛ ابن حبان نے بھی یحییٰ کو ثقات میں ذکر کیا ہے، مگر ابوحاتم رازی نے انہیں مضطرب الحدیث اور غیر قوی کہا ہے۔ امام بخاری نے بھی انہیں "منکر الحدیث" قرار دیا اور کہا کہ ان کا زید یا ابن مقبری سے سماع ثابت نہیں، لہٰذا ان سے حجت قائم نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 878 سے ماخوذ ہے۔