حدیث نمبر: 880
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا عبد الحميد بن سليمان، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد قال: كنت أَراه يقدِّم فِتيانًا من فتيانِ قومِه فيصلُّون به، فقلت: أنت صاحبُ رسول الله ﷺ، ولك من الفضل والسابقةِ، تُقدِّمُ هؤلاء الصبيانَ فيصلُّون بك، أفلا تتقدَّمُ فتصلِّيَ لقومك، فقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ الإمامَ ضامنٌ، فإن أتَمَّ كانت له ولهم، وإن نَقَصَ كان عليه ولا عليهم"، فلا أريدُ أن أتحمَّلَ ذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 785 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھا گیا کہ وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کو امامت کے لیے آگے کرتے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور آپ کی بڑی فضیلت ہے، پھر بھی آپ ان نوجوانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”امام (نماز کا) ضامن ہے، اگر اس نے مکمل نماز پڑھائی تو اجر اس کے لیے بھی ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر اس نے کوئی کمی کی تو اس کا وبال اسی پر ہے مقتدیوں پر نہیں،“ اور میں اس کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لینا چاہتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 880
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الحميد بن سليمان» [ترقيم الرساله 880] [ترقيم الشركة 790] [ترقيم العلميه 785]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الحميد بن سليمان. أبو حازم: هو سلمة بن دينار الأعرج.
درجۂ حدیث: (2) یہ "صحیح لغیرہ" ہے، مگر عبدالحمید بن سلیمان کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ: ابوحازم سے مراد سلمہ بن دینار الاعرج ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (981) من طريق سعيد بن سليمان الواسطي، عن عبد الحميد بن سليمان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (981) نے سعید بن سلیمان الواسطی عن عبدالحمید کی سند سے روایت کیا ہے۔
ويشهد لقوله: "الإمام ضامن" حديث أبي هريرة عند أحمد 12/ (7169)، وحديث أبي أمامة عنده أيضًا 36/ (22238)
متابعات و شواہد: "امام ضامن ہے" والے جملے کی تائید حضرت ابوہریرہ (مسند احمد 7169) اور ابوامامہ (22238) کی احادیث سے ہوتی ہے۔
ويشهد لبقيّته حديث أبي هريرة عند أحمد 14/ (8663)، والبخاري (694).
متابعات و شواہد: باقی جملوں کی تائید حضرت ابوہریرہ کی حدیث (بخاری 694) سے ہوتی ہے۔
وانظر حديث عقبة بن عامر السالف برقم (853).
تکرار: عقبہ بن عامر کی حدیث نمبر (853) پر ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 880 سے ماخوذ ہے۔