حدیث نمبر: 641
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن الوليد بن مَزْيد، أخبرنا أبي، قال: سمعتُ الأوزاعي يقول: بلغني عن عطاء بن أبي رباح، أنه سمع ابن عباس يُخبر: أنَّ رجلًا أصابه جرحٌ في عهد رسول الله ﷺ ثم أصابه احتلام، فأُمر بالاغتسال، فاغتسل فمات، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال: "قَتَلُوه قَتَلَهم الله، ألم يكن شفاءَ العِيِّ السؤالُ" (2). فبَلَغَنا: أنَّ رسول الله ﷺ سُئِلَ عن ذلك فقال: "لو غَسَلَ جسده وترك رأسَه حيث أصابه الجرحُ" (3). وقد رواه الهِقْل بن زياد، وهو من أثبت أصحاب الأوزاعي، ولم يَذكُر سماعَ الأوزاعي من عطاء:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک شخص زخمی ہوا، پھر اسے احتلام ہو گیا، اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا۔ جب یہ خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا جہالت کا علاج سوال کرنا نہ تھا؟“ پھر ہمیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش وہ اپنے بدن کو دھو لیتا اور اپنے سر کو چھوڑ دیتا جہاں اسے زخم لگا تھا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 641
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن كسابقه لكن دون البلاغ في آخره
تخریج حدیث «حديث حسن كسابقه لكن دون البلاغ في آخره، فهو ضعيف لإرساله، فالقائل: "فبلغنا" هو عطاء بن أبي رباح كما وقع مصرَّحًا به في هذه الرواية نفسها عند البيهقي في "السنن الكبرى" ، 1/ 227 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم وآخرين معه عن أبي العباس محمد بن يعقوب بهذا ...» [ترقيم الرساله 641]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) من قوله: "بشر بن بكر ثقة مأمون" إلى هنا سقط من (ب) والمطبوع.
اہم نکتہ: عبارت کا یہ حصہ کہ "بشر بن بکر ثقہ اور مأمون ہیں"، نسخہ (ب) اور مطبوعہ نسخوں سے ساقط ہے۔
(3) حديث حسن كسابقه لكن دون البلاغ في آخره، فهو ضعيف لإرساله، فالقائل: "فبلغنا" هو عطاء بن أبي رباح كما وقع مصرَّحًا به في هذه الرواية نفسها عند البيهقي في "السنن الكبرى"

1/ 227 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم وآخرين معه عن أبي العباس محمد بن يعقوب بهذا الإسناد. وكما سيأتي في رواية هِقْل التالية عند المصنّف، وهو كذلك في رواية عبد الحميد بن أبي العشرين عند ابن ماجه (572)، وانظر تمام تخريجه فيه.

درجۂ حدیث: یہ حدیث گزشتہ روایت کی طرح حسن ہے، لیکن اس کے آخر میں موجود "بلاغ" (خبر پہنچنے کا ذکر) ضعیف ہے کیونکہ وہ مرسل ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں "فبلغنا" کہنے والے عطاء بن ابی رباح ہیں، جیسا کہ امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" 1/ 227 میں امام حاکم کی سند سے اس کی صراحت کی ہے۔
تفصیلِ روایت: یہی بات ہِقل بن زیاد کی اگلی روایت اور عبد الحمید بن ابی العشیرین کی ابن ماجہ (572) والی روایت میں بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 641 سے ماخوذ ہے۔