حدیث نمبر: 642
أخبرنا [أبو] عبد الله محمد (1) أحمد بن بن علي بن مَخلَد الجوهري ببغداد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح، حَدَّثَنَا هِقْل بن زياد. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا الحَكَم بن موسى، حَدَّثَنَا هِقْل قال: سمعتُ الأوزاعيَّ قال: قال عطاء عن ابن عباس: إنَّ رجلًا أصابته جِراحةٌ على عهد رسول الله ﷺ فأصابته جَنابةٌ، فاستفتى فأُمِرَ بالغُسْل، فاغتسل فمات، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال: "قَتَلُوه قَتَلهم الله، ألم يكن شِفاءَ العِيِّ السؤالُ؟! ". قال عطاء: فبَلَغَني: أنَّ رسول الله ﷺ سُئِلَ بعد ذلك فقال: "لو غَسَلَ جسدَه وتركَ حيث أصابه الجِراحُ أجزأَه" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص زخمی ہوا، پھر اسے جنابت لاحق ہوئی، اس نے فتویٰ پوچھا تو اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا جہالت کا علاج سوال کرنا نہ تھا؟! “ عطاء کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے بعد پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اپنے جسم کو دھو لیتا اور جہاں زخم لگا تھا اسے چھوڑ دیتا تو یہ اسے کافی ہوتا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 642
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 642] [ترقيم الشركة 636]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: أخبرنا عبد الله بن محمد، وقد جاء على الصواب في هذا الكتاب في غير هذا الموضع، فهو أبو عبد الله واسمه محمد، وله ترجمة في "سير أعلام النبلاء" 16/ 60 - 61.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "عبد اللہ بن محمد" لکھا ہے، لیکن اسی کتاب میں دیگر مقامات پر یہ درست نام "ابو عبد اللہ محمد" کے طور پر آیا ہے۔
نوٹ / توضیح: ان کے حالاتِ زندگی "سیر اعلام النبلاء" 16/ 60-61 میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
(2) هو كسابقه. وأخرجه أبو يعلى (2420 - 2421) عن أبي صالح عبد الله بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی سند سابقہ روایت کی طرح ہے، اور اسے امام ابو یعلیٰ (2420-2421) نے ابو صالح عبد اللہ بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (730) و (731) من طريقين عن الحكم بن موسى، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی نے (730) اور (731) میں حکم بن موسیٰ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 642 سے ماخوذ ہے۔