أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا خالد، عن خالد الحذَّاء، عن أبي قِلَابة، عن عمرو بن بُجْدان، عن أبي ذر قال: اجْتَمَعَت غُنَيمةٌ عند رسول الله ﷺ، فقال: يا أبا ذرٍّ، ابْدُ فيها"، فبَدَوت إلى الرَّبَذة، فكانت تصيبني الجنابةُ، فأمكُثُ الخمسةَ والستةَ، فأتيتُ رسول الله ﷺ، قال: "أبو ذرٍّ! " فسكتُّ فقال: "تَكِلتك أمُّك أبا ذر، لأُمِّك الويلُ" فدعا بجارية فجاءت بعُسٍّ من ماء فستَرَتْني بثوبٍ، واستترتُ بالراحلة فاغتسلتُ، فكأني ألقيتُ عني جبلًا، فقال: "الصَّعيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ المسلم ولو إلى عشر سنين، فإذا وجدتَ الماء فأَمِسَّه جِلدَك، فإنَّ ذلك خيرٌ" (2).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إذ لم نَجِدْ لعمرو بن بُجْدان راويًا غيرَ أبي قِلابة الجَرْمي، وهذا ممّا شَرَطتُ فيه، وبيَّنتُ (1) أنهما قد خرَّجا مثلَ هذا في مواضع من الكتابين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 627 - صحيح
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إذ لم نَجِدْ لعمرو بن بُجْدان راويًا غيرَ أبي قِلابة الجَرْمي، وهذا ممّا شَرَطتُ فيه، وبيَّنتُ (1) أنهما قد خرَّجا مثلَ هذا في مواضع من الكتابين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 627 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ بکریاں جمع ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ذر! ان کے ساتھ باہر (چراگاہ میں) رہو،“ تو میں ربذہ چلا گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ دن اسی حال میں گزار دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابو ذر! “ میں خاموش رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری ماں تمہیں گم پائے، تمہاری ماں کے لیے ہلاکت ہو،“ پھر آپ ﷺ نے ایک لونڈی کو بلایا جو پانی کا ایک بڑا برتن لائی، اس نے مجھے کپڑے سے چھپایا اور میں نے سواری کی اوٹ میں غسل کیا، تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھ سے کوئی پہاڑ ہٹ گیا ہو، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے چاہے دس سال تک پانی نہ ملے، پھر جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنے بدن سے چھواؤ (یعنی غسل یا وضو کرو) کیونکہ یہی بہتر ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن اسے صرف ابوقلابہ نے عمرو بن بجدان سے روایت کیا ہے، اور یہ میرے اصول کے مطابق ہے کہ شیخین نے اس طرح کی روایات لی ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن اسے صرف ابوقلابہ نے عمرو بن بجدان سے روایت کیا ہے، اور یہ میرے اصول کے مطابق ہے کہ شیخین نے اس طرح کی روایات لی ہیں۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، حدَّثني عمرو بن الحارث ورجلٌ آخر، عن يزيد بن أبي حبيب، عن عِمران بن أبي أنس، عن عبد الرحمن بن جُبَير، عن أبي قيس مولى عمرو بن العاص: أنَّ عمرو بن العاص كان على سَرِيَّة، وأنهم أصابهم بردٌ شديد لم يُرَ مثلُه، فخرج لصلاة الصبح فقال: والله لقد احتلمتُ البارحةَ، ولكني والله ما رأيتُ بردًا مثلَ هذا، هل مرَّ على وجوهكم مثلُه؟ قالوا: لا، فغسل مَغابِنَه وتوضَّأَ وضوءَه للصلاة ثم صلى بهم، فلما قَدِمَ على رسول الله ﷺ، سألَ رسولُ الله ﷺ: "كيف وجدتُم عَمْرًا وصحابتَه؟ " فأثَنْوا عليه خيرًا وقالوا: يا رسول الله، صلَّى بنا وهو جُنُبٌ، فأرسل رسول الله ﷺ إلى عمرو فسأله، فأخبره بذلك وبالذي لَقِيَ من البرد، فقال: يا رسول الله، إنَّ الله قال: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [النساء: 29] ولو اغتسلتُ مُتُّ، فضَحِكَ رسول الله ﷺ إلى عمرو (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما عَلَّلاه بحديث جرير بن حازم عن يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 628 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما عَلَّلاه بحديث جرير بن حازم عن يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 628 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو قیس سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص ایک لشکر کے امیر تھے اور انہیں اتنی شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا کہ ویسی پہلے کبھی نہ دیکھی تھی، جب وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے رات کو احتلام ہو گیا تھا، لیکن اللہ کی قسم میں نے ایسی سردی کبھی نہیں دیکھی، کیا آپ لوگوں کو بھی ایسی سردی لگی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں،“ تو انہوں نے اپنے مخصوص اعضاء دھوئے، نماز والا وضو کیا اور انہیں نماز پڑھا دی، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا؟“ انہوں نے تعریف کی اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! انہوں نے ہمیں جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی،“ آپ ﷺ نے انہیں بلا کر پوچھا تو انہوں نے شدید سردی کا بتایا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [النساء: 29] اور اگر میں غسل کرتا تو مر جاتا،“ اس پر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أحمد بن سلمان الفقيه قال: قُرئَ على عبد الملك بن محمد وأنا أسمع قال: حَدَّثَنَا وهب بن جَرِير بن حازم، حَدَّثَنَا أبي قال: سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حبيب، عن عِمران بن أبي أنس، عن عبد الرحمن بن جبير، عن عمرو بن العاص قال: احتلمتُ في ليلةٍ باردةٍ في غزوة ذات السَّلاسل فأشفَقتُ إن اغتسلتُ أن أهلِكَ، فتيمَّمتُ ثم صلَّيت بأصحابي الصبحَ، فذكروا ذلك للنبي ﷺ، فقال: يا عمرُو، صلَّيتَ بأصحابك وأنت جُنُب؟! " فأخبرتُه بالذي مَنَعني من الاغتسال، وقلت: إني سمعتُ الله يقول: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾، فَضَحِكَ رسول الله ﷺ ولم يقل شيئًا (2). حديث جرير بن حازم هذا لا يُعلِّل حديثَ عمرو بن الحارث الذي وَصَلَه بذِكْر أبي قيس، فإنَّ أهل مصر أعرفُ بحديثهم من أهل البصرة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ ذات السلاسل میں ایک ٹھنڈی رات مجھے احتلام ہو گیا، مجھے ڈر لگا کہ اگر غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، تو میں نے تیمم کیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھا دی، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا تم نے جُنبی ہونے کے باوجود اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟“ تو میں نے غسل نہ کرنے کی وجہ بتائی اور عرض کیا کہ میں نے اللہ کو فرماتے سنا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 29]، تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور کچھ نہ فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔