کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عورت کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنا جائز ہے۔
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك، حدثنا حنبل بن إسحاق، حدثنا قَبِيصة، حدثنا سفيان. وأخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ امرأةً من أزواج النبي ﷺ اغتسلت من جَنَابةٍ، فتوضَّأَ النبيُّ ﷺ أو اغتسل من فَضْلِها (1). تابعه شعبةُ عن سماك:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ نے جنابت کا غسل کیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے (بچے ہوئے) پانی سے وضو یا غسل فرمایا۔
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي (1). وحدثنا أبو علي، حدثنا علي بن العباس بن الوليد البَجَلي، حدثنا أحمد بن المِقْدام؛ قالوا حدثنا محمد بن بكر، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حرب، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: أراد النبيُّ ﷺ أن يتوضَّأَ من إناء، فقالت امرأة من نسائه: يا رسول الله، إني قد توضَّأتُ من هذا، فتوضأ النبي ﷺ وقال: "الماءُ لا يُنجِّسُه شيءٌ" (2). قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلم بأحاديث سِمَاك بن حرب، و
هذا حديث صحيح في الطهارة، ولم يُخرجاه، ولا يُحفَظُ له عِلَّة.
هذا حديث صحيح في الطهارة، ولم يُخرجاه، ولا يُحفَظُ له عِلَّة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک برتن سے وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس (پانی) سے وضو کر چکی ہوں، تو آپ ﷺ نے وضو فرما لیا اور فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
یہ حدیث طہارت کے باب میں صحیح ہے، امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔
یہ حدیث طہارت کے باب میں صحیح ہے، امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔