المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الْوُضُوءُ أَوِ الْغُسْلُ مِنْ فَضْلِ غُسْلِ الْمَرْأَةِ باب: عورت کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 574
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي (1). وحدثنا أبو علي، حدثنا علي بن العباس بن الوليد البَجَلي، حدثنا أحمد بن المِقْدام؛ قالوا حدثنا محمد بن بكر، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حرب، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: أراد النبيُّ ﷺ أن يتوضَّأَ من إناء، فقالت امرأة من نسائه: يا رسول الله، إني قد توضَّأتُ من هذا، فتوضأ النبي ﷺ وقال: "الماءُ لا يُنجِّسُه شيءٌ" (2). قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلم بأحاديث سِمَاك بن حرب، و
هذا حديث صحيح في الطهارة، ولم يُخرجاه، ولا يُحفَظُ له عِلَّة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک برتن سے وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس (پانی) سے وضو کر چکی ہوں، تو آپ ﷺ نے وضو فرما لیا اور فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
یہ حدیث طہارت کے باب میں صحیح ہے، امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: القطيعي، بزيادة ياء. والقُطَعي - بضم القاف وفتح الطاء -: نسبة إلى بني قُطيعة.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں تحریف کی وجہ سے لفظ "القطیعی" (یا کی زیادتی کے ساتھ) لکھا گیا ہے، جبکہ درست لفظ "القُطَعی" (قاف پر پیش اور طا پر زبر کے ساتھ) ہے؛ یہ بنو قطیعہ کی طرف نسبت ہے۔
(2) إسناده حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: اس کی سند پچھلی روایت کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه محمد بن إسحاق بن خزيمة في "صحيحه" (91) عن أحمد بن المقدام العجلي ومحمد بن يحيى القطعي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے اپنی "صحیح" (91) میں احمد بن المقدام العجلی اور محمد بن یحییٰ القطعی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں تحریف کی وجہ سے لفظ "القطیعی" (یا کی زیادتی کے ساتھ) لکھا گیا ہے، جبکہ درست لفظ "القُطَعی" (قاف پر پیش اور طا پر زبر کے ساتھ) ہے؛ یہ بنو قطیعہ کی طرف نسبت ہے۔
(2) إسناده حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: اس کی سند پچھلی روایت کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه محمد بن إسحاق بن خزيمة في "صحيحه" (91) عن أحمد بن المقدام العجلي ومحمد بن يحيى القطعي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے اپنی "صحیح" (91) میں احمد بن المقدام العجلی اور محمد بن یحییٰ القطعی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 574 سے ماخوذ ہے۔