حدیث نمبر: 575
حدثنا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الجُرْجاني، أخبرنا محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن عُتْبة - وهو ابن أبي حَكِيم - عن نافع بن جُبير، عن عبد الله بن عباس: أنه قيل لعمر بن الخطَّاب: حدِّثنا عن شأنِ ساعة العُسْرة، فقال عمر: خرجنا إلى تبوكَ في قَيظٍ شديد، فنزلنا منزلًا أصابَنا فيه عطشٌ حتى ظننَّا أنَّ رقابنا ستنقطعُ، حتى إنَّ الرجل لَيَنحَرُ بعيرَه، فيَعصِرُ فَرْثَه فيشربُه ويجعل ما بقيَ على كَبِده، فقال أبو بكر الصِّدِّيق: يا رسول الله، إِنَّ الله قد عَوَّدَك في الدعاءِ خيرًا، فادعُ له، فقال: "أتحبُّ ذلك؟ " قال: نعم، فرفع يديه فلم يَرجِعْهما حتى قالت السماءُ فأظلَّت ثم سَكَبَت فملؤوا ما معهم، ثم ذهبنا ننظرُ فلم نَجِدْها جازت العسكرَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد ضمَّنه سُنَّةً غريبةً: وهو أنَّ الماء إذا خالطه فَرْثُ ما يُؤكَل لحمُه لم ينجّسه، فإنه لو كان ينجِّس الماءَ لما أجاز رسول الله ﷺ لمسلمٍ أن يجعلَه على كَبِدِه حتى يُنجِّسَ يديه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 566 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے غزوہ تبوک (ساعتِ عسرت) کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم سخت گرمی میں تبوک کی طرف نکلے، ایک مقام پر ہمیں ایسی سخت پیاس لگی کہ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری گردنیں کٹ جائیں گی، یہاں تک کہ آدمی اپنا اونٹ ذبح کرتا اور اس کی اوجھڑی نچوڑ کر (رطوبت) پی لیتا اور باقی حصہ اپنے جگر پر رکھ لیتا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ خیر رکھی ہے، اس لیے ہمارے لیے دعا فرمائیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ایسا چاہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور ابھی نیچے بھی نہیں لائے تھے کہ بادل چھا گئے اور ایسی بارش ہوئی کہ سب نے اپنے برتن بھر لیے، پھر ہم نے دیکھا کہ وہ بارش لشکر کی حدود سے باہر نہیں تھی۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس میں یہ فقہی نکتہ ہے کہ حلال جانور کی اوجھڑی کی رطوبت پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 575
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقوله فيه: "عتبة وهو ابن أبي حكيم" وهمٌ من المصنف أو من بعض رواته، والصواب فيه عتبة بن أبي عتبة: وهو عتبة بن مسلم التيمي المدني، هكذا وقع في غير ما مصدر كصحيح ابن خزيمة (101) ومسند البزار (214) وغيرهما، وعتبة بن أبي عتبة هو الذي يروي عن ...» [ترقيم الرساله 575] [ترقيم الشركة 570] [ترقيم العلميه 566]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وقوله فيه: "عتبة وهو ابن أبي حكيم" وهمٌ من المصنف أو من بعض رواته، والصواب فيه عتبة بن أبي عتبة: وهو عتبة بن مسلم التيمي المدني، هكذا وقع في غير ما مصدر كصحيح ابن خزيمة (101) ومسند البزار (214) وغيرهما، وعتبة بن أبي عتبة هو الذي يروي عن نافع بن جبير ويروي عن سعيد بن أبي هلال وروى له الشيخان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں "عتبہ بن ابی حکیم" کا ذکر مصنف یا ان کے کسی راوی کا وہم ہے، درست نام "عتبہ بن ابی عتبہ" (عتبہ بن مسلم التیمی المدنی) ہے جیسا کہ صحیح ابن خزیمہ (101) اور مسند البزار (214) وغیرہ میں صراحت ہے۔
اہم نکتہ: یہ عتبہ بن ابی عتبہ وہی راوی ہیں جو نافع بن جبیر اور سعید بن ابی ہلال سے روایت کرتے ہیں اور بخاری و مسلم (شیخین) کے راویوں میں شامل ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (1383) عن عبد الله بن محمد بن سَلْم، عن حرملة بن يحيى، بهذا الإسناد. إلّا أنه لم يذكر في إسناده عتبة بن أبي عتبة.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان نے (1383) میں عبداللہ بن محمد بن سلم عن حرملہ بن یحییٰ کی سند سے روایت کیا ہے، مگر انہوں نے اپنی سند میں عتبہ بن ابی عتبہ کا ذکر نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 575 سے ماخوذ ہے۔