حدیث نمبر: 573
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك، حدثنا حنبل بن إسحاق، حدثنا قَبِيصة، حدثنا سفيان. وأخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ امرأةً من أزواج النبي ﷺ اغتسلت من جَنَابةٍ، فتوضَّأَ النبيُّ ﷺ أو اغتسل من فَضْلِها (1). تابعه شعبةُ عن سماك:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ نے جنابت کا غسل کیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے (بچے ہوئے) پانی سے وضو یا غسل فرمایا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 573
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، سماك بن حرب صدوق حسن الحديث لكن في بعض رواياته عن عكرمة خاصة اضطراب، فيُجتنَب ما بان فيه اضطرابُه، وحديثه هذا قد روي معناه من غير هذا الوجه كما سيأتي- أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن ...» [ترقيم الرساله 573] [ترقيم الشركة 568]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن، سماك بن حرب صدوق حسن الحديث لكن في بعض رواياته عن عكرمة خاصة اضطراب، فيُجتنَب ما بان فيه اضطرابُه، وحديثه هذا قد روي معناه من غير هذا الوجه كما سيأتي. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وقبيصة: هو ابن عقبة، وسفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سماک بن حرب صدوق ہیں مگر عکرمہ سے ان کی روایت میں کبھی اضطراب ہوتا ہے۔
اہم نکتہ: ابوالوجہ سے مراد محمد بن عمرو فزاری، عبدان سے عبداللہ بن عثمان مروزی، عبداللہ سے ابن مبارک اور سفیان سے سفیان ثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2102)، والنسائي في "المجتبى" (325)، وابن حبان (1242) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد - وزادوا في آخره: فذكرت ذلك له فقال: "إنَّ الماء لا ينجّسه شيء".
حوالہ / مصدر: اسے احمد، نسائی اور ابن حبان نے ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: ان روایات میں یہ اضافہ ہے: "میں نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی"۔
وأخرجه أحمد 4/ (2101) و (2566) و 5/ (28051)، وابن ماجه (371) من طرق عن سفيان الثوري، به - وبعضهم لم يذكر الزيادة المشار إليها.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے سفیان ثوری کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے، مگر بعض نے مذکورہ بالا اضافہ نقل نہیں کیا۔
وأخرجه أحمد 5/ (3120)، وأبو داود (68)، وابن ماجه (370)، والترمذي (65)، وابن حبان (1248) و (1261) و (1269) من طريقين عن سماك، به - بذكر الزيادة، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی اور ابن حبان نے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرج معناه مسلم (323) من طريق أبي الشعثاء، عن ابن عباس: أن رسول الله ﷺ كان يغتسل بفضل ميمونة. وهو عند البخاري بلفظ: أنَّ النبي ﷺ وميمونة كانا يغتسلان من إناء واحد. وانظر "مسند أحمد" 5/ (3465).
متابعات و شواہد: امام مسلم (323) نے ابن عباس کے واسطے سے روایت کیا کہ آپ ﷺ حضرت میمونہ کے بچے ہوئے پانی سے غسل فرماتے تھے۔
تفصیلِ روایت: بخاری میں ہے کہ دونوں ایک ہی برتن سے غسل فرماتے تھے۔
ويشهد له حديث عائشة عند البخاري (250) ومسلم (321).
متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (250) اور مسلم (321) میں ہے۔
ويشهد لقوله: "إنَّ الماء لا ينجّسه شيء" حديثُ أبي سعيد الخدري في بئر بُضاعة عند أحمد 17/ (11119) وغيره، وهو حديث صحيح بطرقه.
متابعات و شواہد: جملہ "پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی" کی تائید بئرِ بضاعہ والی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو مسند احمد 17/ (11119) اور دیگر کتب میں موجود ہے، اور یہ حدیث اپنے تمام طرق کے مجموعے سے صحیح ہے۔
قوله: "من فضلها" أي: مما بقي من الماء بعد غُسلها ووضعها يديها فيه.
نوٹ / توضیح: قولِ مبارک "من فضلها" (عورت کے بچے ہوئے پانی سے) کا مطلب یہ ہے کہ غسل کے بعد برتن میں بچ جانے والا وہ پانی جس میں عورت نے (پانی لیتے وقت) ہاتھ ڈالا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 573 سے ماخوذ ہے۔