حدیث نمبر: 529
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، عن أبيه: أنه أتى النبيَّ ﷺ فَذَكَرَ أشياء، فقال له النبي ﷺ: "أَسبغِ الوضوءَ وخَلِّلِ الأصابعَ، وإذا استنشقتَ فبالِغْ، إلّا أن تكون صائمًا" (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وهو في جُمْلة ما قلنا: إنهما أَعرضا عن الصحابي الذي لا يروي عنه غيرُ الواحد (2)، وقد احتجَّا جميعًا ببعض، هذا النوع، فأما أبو هاشم إسماعيل بن كثير القارئ، فإنه من كبار المكيين، روى عنه هذا الحديث بعينه غيرُ الثَّوريِّ جماعةٌ منهم ابن جُرَيج وداود بن عبد الرحمن العطَّار ويحيى بن سُلَيم وغيرهم. أما حديث ابن جريج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 522 - صحيح أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ
حافظ طلحہ بابر

عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر انہوں نے کچھ باتوں کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو، اور جب ناک میں پانی ڈالو تو مبالغہ کیا کرو الا یہ کہ تم روزے سے ہو۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، یہ ان روایات میں سے ہے جنہیں انہوں نے اس لیے چھوڑ دیا کہ اس صحابی سے صرف ایک ہی راوی روایت کرنے والا ہے، حالانکہ انہوں نے اس نوع کی بعض دیگر روایات سے احتجاج کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن کثیر مکہ کے بڑے علماء میں سے ہیں اور ان سے ثوری کے علاوہ ابن جریج اور داؤد بن عبدالرحمن وغیرہ نے بھی روایت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 529
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، سفيان: هو الثوري» [ترقيم الرساله 529] [ترقيم الشركة 524] [ترقيم العلميه 522]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود "سفیان" سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16380) و (16381)، والترمذي (38)، والنسائي (99) من طريق وكيع، وأحمد 26/ (16838)، والنسائي (3035) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، كلاهما عن سفيان، بهذا الإسناد - وبعضهم يزيد فيه على بعضه. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. وانظر ما سيأتي برقم (660) و (7271).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (26/ 16380، 16381)، ترمذی نے (38) اور نسائی نے (99) میں وکیع بن جراح کے طریق سے، اور امام احمد نے (26/ 16838) و نسائی نے (3035) میں عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے روایت کیا ہے، دونوں سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" کہا ہے۔
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل آگے نمبر (660) اور (7271) پر آئے گی۔
(2) انظر تعليقنا على هذه المسألة عند الحديث (97).
نوٹ / توضیح: اس مسئلہ پر ہماری تفصیلی بحث حدیث نمبر (97) کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 529 سے ماخوذ ہے۔