کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کا علاج بھی رکھا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعْبة. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن النَّضْر الزُّبَيري، حدثنا بكر بن بَكَّار، حدثنا شعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرني أبو عمرو محمد بن جعفر - واللفظ له - حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا عُبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن زياد بن عِلَاقة، سمع أسامةَ بن شَرِيك قال: أتيتُ رسول الله ﷺ وأصحابُه عنده كأنما على رؤوسهم الطَّير، فسلَّمتُ وقعدتُ، فجاء أعرابٌ يسألونه عن أشياءَ حتى قالوا: أنتداوَى؟ قال: "تَداوَوْا، فَإِنَّ الله لم يَضَعْ داءً إلَّا وَضَعَ له دواءً"، فسألوه عن أشياءَ، فقال: "عبادَ الله، وَضَعَ اللهُ الحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَرَضَ امرَأً ظُلمًا، فذلك حَرِجَ وهَلَكَ" قالوا: يا رسول الله، ما خيرُ ما أُعطيَ الناس؟ قال: "خُلُقٌ حَسَنٌ" (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، والعِلَّة عند مسلم فيه أن أسامة بن شَرِيك لا راوي له غير زياد بن عِلَاقة، وقد روي عن علي بن الأقمر عن أسامة بن شريك (2)، على أني قد أصَّلتُ كتابي هذا على إخراج الصحابة وإن لم يكن لهم غيرُ راوٍ واحد، ولهذا الحديث طرق سبيلُنا أن نُخرِجَها بمشيئة الله في كتاب الطب.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، والعِلَّة عند مسلم فيه أن أسامة بن شَرِيك لا راوي له غير زياد بن عِلَاقة، وقد روي عن علي بن الأقمر عن أسامة بن شريك (2)، على أني قد أصَّلتُ كتابي هذا على إخراج الصحابة وإن لم يكن لهم غيرُ راوٍ واحد، ولهذا الحديث طرق سبيلُنا أن نُخرِجَها بمشيئة الله في كتاب الطب.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے صحابہ آپ کے پاس اس طرح (باادب) بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں؛ میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا، پھر کچھ دیہاتی آئے اور آپ ﷺ سے مختلف چیزوں کے بارے میں سوال کرنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے پوچھا: کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علاج کرواؤ، کیونکہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کی دوا نہ بنائی ہو“؛ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو دی جانے والی چیزوں میں سب سے بہترین کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حسنِ اخلاق۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام مسلم کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ اسامہ بن شریک سے سوائے زیاد بن علاقہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ میں نے اس کتاب کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ صحابی کی روایت لی جائے گی اگرچہ ان سے ایک ہی راوی ہو۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام مسلم کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ اسامہ بن شریک سے سوائے زیاد بن علاقہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ میں نے اس کتاب کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ صحابی کی روایت لی جائے گی اگرچہ ان سے ایک ہی راوی ہو۔
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا صالح بن رُسْتُم، عن حُمَيد بن هلال، عن عبد الرحمن بن قُرْط قال: دخلتُ المسجد فإذا حَلْقةٌ كأنما قُطِعت رؤوسُهم، وإذا رجلٌ يحدِّثهم، فإذا هو حُذَيفة، قال: كان الناس يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرّ، وذكر الحديث بطوله (1). مَتْن هذا الحديث مخرَّج في الكتابين، وإنما خرَّجتُه في هذا الموضع للإصغاء إلى المحدِّث وكيفية التوقير له، فإنَّ هذه اللفظة لم يُخرجاها في الكتابين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 416 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 416 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن قرط سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ دیکھا جہاں لوگ اس طرح (خاموشی اور ادب سے) بیٹھے تھے گویا ان کے سر قلم کر دیے گئے ہوں، اور ایک شخص انہیں حدیث سنا رہا تھا، معلوم ہوا کہ وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے؛ انہوں نے کہا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا... (پھر مکمل حدیث ذکر کی)۔
اس حدیث کا متن صحیحین میں موجود ہے، یہاں اسے محدث کی بات توجہ سے سننے اور ان کی توقیر کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے۔
اس حدیث کا متن صحیحین میں موجود ہے، یہاں اسے محدث کی بات توجہ سے سننے اور ان کی توقیر کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے۔
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، أخبرنا الحَكَم بن عطيَّة، عن ثابت، عن أنس قال: كان رسول الله ﷺ إذا دخل المسجدَ لم يَرفَعْ أحدٌ منّا إليه رأسَه غير أبي بكر وعمر، فإنهما كانا يتبسَّمانِ إليه ويتبسَّمُ إليهما (1).
هذا حديث تفرَّد به هذا الشيخ الحكم بن عطيّة، وليس من شرط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 418 - تفرد به الحكم وليس من شرط هذا الكتاب
هذا حديث تفرَّد به هذا الشيخ الحكم بن عطيّة، وليس من شرط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 418 - تفرد به الحكم وليس من شرط هذا الكتاب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو ہم میں سے کوئی بھی آپ کی طرف اپنا سر نہ اٹھاتا (کمالِ ادب کی وجہ سے) سوائے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے، وہ دونوں آپ ﷺ کو دیکھ کر مسکراتے اور آپ ﷺ انہیں دیکھ کر تبسم فرماتے۔
اس حدیث کو بیان کرنے میں حکم بن عطیہ منفرد ہیں اور یہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔
اس حدیث کو بیان کرنے میں حکم بن عطیہ منفرد ہیں اور یہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔