أخبرنا أبو الحسن ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار العُطَارِدي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البَرَاء بن عازِب: قال خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةِ رجلٍ من الأنصار، فانتهينا إلى القبر ولمَّا يُلحَدْ، فجَلَسَ رسولُ الله ﷺ وجلسنا حولَه كأنَّ على رؤوسِنا الطيرَ، وذَكَرَ الحديث (1). قد ثبت صحَّةُ هذا الحديث في كتاب الإيمان، وأنهما لم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں تھی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم آپ کے گرد (ایسے ادب و سکون سے) بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (کہ ذرا سی حرکت سے اڑ جائیں گے)۔
یہ حدیث کتاب الایمان میں صحیح ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث کتاب الایمان میں صحیح ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى الخطيب بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال البُوزَنْجِرْدي، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: كنَّا إذا قَعَدْنا عند رسول الله ﷺ لم نَرفَعْ رؤوسنا إليه، إعظامًا له (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (3)، ولا أحفَظُ له علَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 415 - على شرطهما ولا أحفظ له علة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (3)، ولا أحفَظُ له علَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 415 - على شرطهما ولا أحفظ له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تھے تو آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کی وجہ سے اپنے سروں کو اوپر نہیں اٹھاتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔