المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً باب: اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کا علاج بھی رکھا۔
حدیث نمبر: 423
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، أخبرنا الحَكَم بن عطيَّة، عن ثابت، عن أنس قال: كان رسول الله ﷺ إذا دخل المسجدَ لم يَرفَعْ أحدٌ منّا إليه رأسَه غير أبي بكر وعمر، فإنهما كانا يتبسَّمانِ إليه ويتبسَّمُ إليهما (1).
هذا حديث تفرَّد به هذا الشيخ الحكم بن عطيّة، وليس من شرط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 418 - تفرد به الحكم وليس من شرط هذا الكتابحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو ہم میں سے کوئی بھی آپ کی طرف اپنا سر نہ اٹھاتا (کمالِ ادب کی وجہ سے) سوائے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے، وہ دونوں آپ ﷺ کو دیکھ کر مسکراتے اور آپ ﷺ انہیں دیکھ کر تبسم فرماتے۔
اس حدیث کو بیان کرنے میں حکم بن عطیہ منفرد ہیں اور یہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عطية.
درجۂ حدیث: اس کی سند حکم بن عطیہ کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12516)، والترمذي (3668) من طريق أبي داود سليمان بن داود الطيالسي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 19/ (12516) اور ترمذی (3668) نے ابو داود طیالسی (سلیمان بن داود) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حکم بن عطیہ کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12516)، والترمذي (3668) من طريق أبي داود سليمان بن داود الطيالسي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 19/ (12516) اور ترمذی (3668) نے ابو داود طیالسی (سلیمان بن داود) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 423 سے ماخوذ ہے۔