المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
الرَّحْمَةُ تَنْزِلُ عَلَى جَمَاعَةٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ باب: رحمت اُس جماعت پر نازل ہوتی ہے جو اللہ کا ذکر کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 424
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الخَضِرُ بن أبان الهاشمي، حدثنا سيّار بن حاتم، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أبي عثمان، عن سلمان الفارسي قال: كان سلمانُ في عِصَابة يذكرونَ الله، فمرَّ بهم رسول الله ﷺ، فجاء نحوَهم قاصدًا حتى دَنَا منهم، فكَفُّوا عن الحديث إعظامًا لرسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: "ما كنتم تقولون؟ فإني رأيتُ الرَّحمةَ تَنزَّلُ عليكم، فأحببتُ أن أشارِكَكم فيها" (2).
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجعفر بن سليمان (1)، فأما أبو سلمة سيَّار بن حاتم الزاهد فإنه عابدُ عصره، وقد أكثر أحمدُ بن حنبلٍ الروايةَ عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 419 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک گروہ میں بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ ان کی طرف تشریف لائے یہاں تک کہ ان کے قریب ہو گئے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم میں خاموش ہو گئے؛ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کہہ رہے تھے؟ میں نے دیکھا کہ تم پر رحمت نازل ہو رہی ہے تو میں نے پسند کیا کہ میں بھی اس میں تمہارا شریک ہو جاؤں۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے جعفر بن سلیمان سے احتجاج کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف، الخضر بن أبان ضعفه الدارقطني والحاكم فيما قاله الذهبي في "ميزان الاعتدال" و "تاريخ الإسلام". أبو عثمان هو عبد الرحمن بن ملٍّ النهدي.
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 1/ 342 من طريق أحمد بن حنبل، عن سيار - وتحرَّف في المطبوع إلى: يسار - عن جعفر بن سليمان، عن ثابت البناني، عن سلمان. فأسقط الواسطة بين ثابت وسلمان فصار الإسناد بذلك منقطعًا.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں خضر بن ابان موجود ہیں جنہیں دارقطنی اور حاکم نے ضعیف قرار دیا (کما فی المیزان والتاریخ للذہبی)۔ ابو عثمان سے مراد عبد الرحمن بن مل النہدی ہیں۔
حوالہ / مصدر: ابو نعیم نے "الحلیہ" 1/ 342 میں اسے امام احمد عن سیار (مطبوعہ میں یسار غلط چھپا ہے) عن جعفر بن سلیمان عن ثابت البنانی کے طریق سے بغیر کسی واسطے کے حضرت سلمان سے روایت کیا ہے، جس سے یہ سند "منقطع" ہوگئی ہے۔
(1) البخاري لم يرو له شيئًا في "صحيحه".
فنی نکتہ / علّت: امام بخاری نے اپنی "صحیح" میں اس راوی سے کوئی روایت نہیں لی۔
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 1/ 342 من طريق أحمد بن حنبل، عن سيار - وتحرَّف في المطبوع إلى: يسار - عن جعفر بن سليمان، عن ثابت البناني، عن سلمان. فأسقط الواسطة بين ثابت وسلمان فصار الإسناد بذلك منقطعًا.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں خضر بن ابان موجود ہیں جنہیں دارقطنی اور حاکم نے ضعیف قرار دیا (کما فی المیزان والتاریخ للذہبی)۔ ابو عثمان سے مراد عبد الرحمن بن مل النہدی ہیں۔
حوالہ / مصدر: ابو نعیم نے "الحلیہ" 1/ 342 میں اسے امام احمد عن سیار (مطبوعہ میں یسار غلط چھپا ہے) عن جعفر بن سلیمان عن ثابت البنانی کے طریق سے بغیر کسی واسطے کے حضرت سلمان سے روایت کیا ہے، جس سے یہ سند "منقطع" ہوگئی ہے۔
(1) البخاري لم يرو له شيئًا في "صحيحه".
فنی نکتہ / علّت: امام بخاری نے اپنی "صحیح" میں اس راوی سے کوئی روایت نہیں لی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 424 سے ماخوذ ہے۔