کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کبھی اس امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔
ما حدثنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم الأصمّ ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا خالد بن يزيد القَرْني، حدثنا المُعتِمر بن سليمان، عن أبيه، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَجمَعُ اللهُ هذه الأُمَّةَ على الضلالة أبدًا" وقال: "يدُ الله على الجماعة، فاتَّبِعوا السَّوادَ الأعظمَ، فإنه مَن شَذَّ شَذَّ في النار" (2). خالد بن يزيد القَرْني هذا شيخ قديم للبغداديين، ولو حَفِظَ هذا الحديث لحَكَمْنا له بالصحة. والخلاف الثاني فيه على المعتمِر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 391 - لو حفظه خالد لحكمنا له بالصحة حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْأَصَمُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَنِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْمَعُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى الضَّلَالَةِ أَبَدًا» وَقَالَ: «يَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ فَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ» . «خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَنِيُّ هَذَا شَيْخٌ قَدِيمٌ لِلْبَغْدَادِيِّينَ، وَلَوْ حَفِظَ هَذَا الْحَدِيثَ لَحَكَمْنَا لَهُ بِالصِّحَّةِ، وَالْخِلَافُ الثَّانِي فِيهِ عَلَى الْمُعْتَمِرِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 391 - لو حفظه خالد لحكمنا له بالصحة حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْأَصَمُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَنِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْمَعُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى الضَّلَالَةِ أَبَدًا» وَقَالَ: «يَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ فَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ» . «خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَنِيُّ هَذَا شَيْخٌ قَدِيمٌ لِلْبَغْدَادِيِّينَ، وَلَوْ حَفِظَ هَذَا الْحَدِيثَ لَحَكَمْنَا لَهُ بِالصِّحَّةِ، وَالْخِلَافُ الثَّانِي فِيهِ عَلَى الْمُعْتَمِرِ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا“ اور فرمایا: ”اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے، پس تم ”سوادِ اعظم“ (بڑی جماعت) کی پیروی کرو، کیونکہ جو جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم کی طرف اکیلا گیا۔“
خالد بن یزید قرنی بغدادیوں کے قدیم شیخ ہیں، اگر انہوں نے اسے صحیح طور پر محفوظ کیا ہے تو ہم اس کی صحت کا حکم لگائیں گے۔
خالد بن یزید قرنی بغدادیوں کے قدیم شیخ ہیں، اگر انہوں نے اسے صحیح طور پر محفوظ کیا ہے تو ہم اس کی صحت کا حکم لگائیں گے۔
ما حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا محمد حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا المعتمِر بن سليمان، حدثني أبو سفيان المَدِيني، عن عبد الله بن دِينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَجمَعُ اللهُ هذه الأُمَّةَ على الضلالة أبدًا، ويدُ الله على الجماعة، فمن شَذَّ شَذَّ في النار" (1). والخلاف الثالث فيه على المعتمِر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے، پس جو (جماعت سے) الگ ہوا وہ جہنم میں گرا۔“
یہ معتمر بن سلیمان سے مروی دوسرا اختلافی رخ ہے۔
یہ معتمر بن سلیمان سے مروی دوسرا اختلافی رخ ہے۔
ما حدثنا علي بن عيسى بن إبراهيم حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، حدثنا أبو بكر بن نافع، حدثنا المعتمِر، حدثني سليمان المَدِيني، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَجْمَعُ الله أُمَّتِي على ضلالةٍ أبدًا" (2). والخلاف الرابع على المعتمِر فيه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔“
یہ معتمر بن سلیمان سے مروی تیسرا رخ ہے۔
یہ معتمر بن سلیمان سے مروی تیسرا رخ ہے۔
ما أخبرني محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني علي بن الحسين الدِّرهَمي، حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن سفيان - أو أبي سفيان - عن عبد الله بن دِينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "لن يَجمَعَ اللهُ أمَّتي على ضلالةٍ أبدًا، ويد الله على الجماعة هكذا - ورفع يديه - فإنه مَن شَذَّ شَذَّ في النار" (1). قال الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق: لستُ أعرِفُ سفيان أو أبا سفيان هذا. والخلاف الخامس على المعتمر فيه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر اس طرح ہے (آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند کیے)۔ جو جماعت سے نکلا وہ جہنم میں نکلا۔“
امام ابو بکر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں اس سند میں موجود ”سفیان“ یا ”ابو سفیان“ کو نہیں جانتا۔
امام ابو بکر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں اس سند میں موجود ”سفیان“ یا ”ابو سفیان“ کو نہیں جانتا۔
ما حدَّثَناه أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا خالد بن عبد الرحمن، حدثنا المعتمِر، عن سَلْم بن أبي الذَّيّال، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَجْمَعُ اللهُ هذه الأُمَّة - أو قال: أمتي - على الضَّلالة أبدًا، واتَّبعوا السَّوادَ الأعظمَ، فإنه مَن شَذَّ شَذَّ في النار" (2). قال لنا عمر بن جعفر البصري: هكذا في كتاب أبي الحسين: عن سَلْم بن أبي الذَّيّال. قال الحاكم أبو عبد الله: وهذا لو كان محفوظًا من الراوي، لكان من شرط الصحيح. والخلاف السادس على المعتمِر فيه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس امت کو (یا فرمایا میری امت کو) کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، پس تم سوادِ اعظم (بڑی جماعت) کی پیروی کرو، کیونکہ جو جدا ہوا وہ جہنم میں جدا ہوا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگر یہ راوی سے محفوظ (ثابت) ہو تو یہ صحیح کی شرط پر ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگر یہ راوی سے محفوظ (ثابت) ہو تو یہ صحیح کی شرط پر ہے۔
ما أخبرنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا سهل بن أحمد بن عثمان الواسطي من كتابه، حدثنا يحيى بن حبيب بن عَرَبيّ، حدثنا المعتمِر بن سليمان قال: قال أبو سفيان سليمان بن سفيان المَدِيني، عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر، أنَّ نبيّ الله ﷺ قال: "لا يَجمَعُ الله أمَّتي على ضلالةٍ أبدًا، ويد الله على الجماعةِ هكذا، فاتَّبِعوا السَّوادَ الأعظمَ، فإنه مَن شَذَّ شَذَّ في النار" (1). والخلاف السابع على المعتمِر فيه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ میری امت کو کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر اس طرح ہے (آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا)، پس تم سوادِ اعظم (بڑی جماعت) کی پیروی کرو، کیونکہ جو جماعت سے الگ ہوا وہ آگ میں اکیلا گیا۔“
یہ معتمر بن سلیمان سے مروی ساتواں اختلافی رخ ہے۔
یہ معتمر بن سلیمان سے مروی ساتواں اختلافی رخ ہے۔
ما حدَّثناه أبو الحسن محمد بن الحسين بن منصور، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يونس البَزَّاز، حدثنا أبو بكر بن نافع، حدثنا معتمِر بن سليمان، حدثني سليمان أبو عبد الله المدني، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله لا يَجمَعُ أمَّتي - أو قال: أمَّة محمد ﷺ على ضلالةٍ أبدًا، ويدُ الله على الجماعة - وقال بيده يَبسُطُها - إِنَّه مَن شَذَّ شَذَّ في النار" (2). قال الحاكم: فقد استقرَّ الخلافُ في إسناد هذا الحديث على المعتمر بن سليمان - وهو أحد أركان الحديث - من سبعة أوجهٍ لا يَسَعُنا أن نَحكُم أَنَّ كلَّها محمولة على الخطأ، ولا أنَّ كلَّها محمولة على الصواب، وقد كنتُ أسمع أبا علي الحسين بن علي الحافظ يحكم بالصواب لقول من قال: عن المعتمر عن سليمان بن سفيان المديني عن عبد الله بن دينار، ونحن إذا قلنا هذا القول نَسَبْنا الراوي إلى الجهالة فوَهَّنّا به الحديث، ولكنا نقول: إنَّ المعتمر بن سليمان أحدُ أئمَّة الحديث، وقد رُوِيَ عنه هذا الحديث بأسانيدَ يَصِحُّ بمثلها الحديث، فلا بدَّ من أن يكون له أصل بأحد هذه الأسانيد. ثم وَجَدْنا للحديث شواهدَ من غير حديث المعتمر لا أدَّعي صحتَها ولا أحكمُ بتوهينها، بل يَلْزَمُني ذِكرُها لإجماع أهل السُّنّة على هذه القاعدة من قواعد الإسلام، فممَّن رُوِيَ عنه هذا الحديث من الصحابة عبدُ الله بن عباس:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ میری امت کو (یا فرمایا: محمد ﷺ کی امت کو) کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے“ (آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا کر اشارہ فرمایا)، ”یقیناً جو جماعت سے الگ ہوا وہ آگ میں اکیلا گیا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد میں معتمر بن سلیمان (جو کہ ستونِ حدیث ہیں) سے سات طرح کے اختلافات منتقلب ہوئے ہیں، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب غلط ہیں یا سب صحیح۔ البتہ معتمر ایک بڑے امام ہیں اور یہ حدیث ان سے ایسی اسناد کے ساتھ مروی ہے جن سے حدیث صحیح ثابت ہوتی ہے، لہٰذا ان اسناد میں سے کسی نہ کسی میں اس کی اصل ضرور موجود ہے۔ پھر اس حدیث کے دیگر شاہد بھی موجود ہیں جو اس قاعدے کو تقویت دیتے ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد میں معتمر بن سلیمان (جو کہ ستونِ حدیث ہیں) سے سات طرح کے اختلافات منتقلب ہوئے ہیں، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب غلط ہیں یا سب صحیح۔ البتہ معتمر ایک بڑے امام ہیں اور یہ حدیث ان سے ایسی اسناد کے ساتھ مروی ہے جن سے حدیث صحیح ثابت ہوتی ہے، لہٰذا ان اسناد میں سے کسی نہ کسی میں اس کی اصل ضرور موجود ہے۔ پھر اس حدیث کے دیگر شاہد بھی موجود ہیں جو اس قاعدے کو تقویت دیتے ہیں۔
حدثنا أبو الوليد حسَّان بن محمد الفقيه إملاءً وقراءةً، حدثنا محمد بن سليمان بن خالد، حدثنا سَلَمة بن شَبِيب، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا إبراهيم بن ميمون، أخبرني عبد الله بن طاووس، أنه سمع أباه يحدِّث، أنه سمع ابنَ عباس يحدِّث، أنَّ النبي ﷺ قال: "لا يَجمَعُ الله أمَّتي - أو قال: هذه الأُمة - على الضلالةِ أبدًا، ويدُ الله على الجماعة" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ میری امت کو (یا فرمایا: اس امت کو) کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔“
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا العباس بن عبد العظيم، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا إبراهيم بن ميمون العَدَني - وكان يُسمَّى قُريشَ اليمن، وكان من العابدين المجتهدين - قال: قلت لأبي جعفرٍ: والله لقد حدَّثني ابن طاووس عن أبيه قال: سمعت ابنَ عباس يقول: قال رسول الله ﷺ: "لا يَجمَعُ اللهُ أمَّتي على ضلالةٍ أبدًا، ويدُ الله على الجماعة" (2). قال الحاكم: فإبراهيمُ بن ميمون العَدَني هذا قد عدَّله عبدُ الرزاق وأثنى عليه، وعبد الرزاق إمامُ أهل اليمن وتعديلُه حُجَّة. وقد رُوِيَ هذا الحديث عن أنس بن مالك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 399 - إبراهيم عدله عبد الرزاق ووثقه ابن معين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 399 - إبراهيم عدله عبد الرزاق ووثقه ابن معين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کے راوی ابراہیم بن میمون عدنی (قریشِ یمن) کی تعدیل امام عبدالرزاق نے کی ہے اور ان کی تعدیل حجت ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کے راوی ابراہیم بن میمون عدنی (قریشِ یمن) کی تعدیل امام عبدالرزاق نے کی ہے اور ان کی تعدیل حجت ہے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا مبارَك أبو سُحَيم مولى عبد العزيز بن صهيب، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك، عن النبي ﷺ: أنه سأل ربَّه أربعًا: سأل ربَّه أن لا تموتَ أُمَّتُه (1) جوعًا، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يجتمعوا على ضلالةٍ، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يرتدُّوا كفارًا، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يَغلِبَهم عدوٌّ لهم فيستبيحَ بَيْضتَهم، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يكونَ بأسُهم بينهم، فلم يُعطَ ذلك (2). أما مُبارَك بن سُحَيم، فإنه ممَّن لا يُمشَّي في مثل هذا الكتاب، لكني ذكرتُه اضطرارًا. الحديث الثالث في حُجَّة العلماء بأنَّ الإجماع حُجَّة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب سے چار چیزیں مانگیں: یہ کہ ان کی امت بھوک سے ہلاک نہ ہو (یہ عطا کر دی گئی)، یہ کہ وہ گمراہی پر اکٹھے نہ ہوں (یہ بھی عطا کر دی گئی)، یہ کہ وہ کافر ہو کر مرتد نہ ہو جائیں (یہ بھی عطا کر دی گئی)، اور یہ کہ کوئی بیرونی دشمن انہیں جڑ سے نہ مٹا دے (یہ بھی عطا کر دی گئی)؛ اور آپ ﷺ نے یہ بھی مانگا کہ ان کی آپس میں لڑائی نہ ہو، تو یہ (پانچویں چیز) عطا نہیں کی گئی۔
مبارک بن سحیم اگرچہ اس کتاب کے معیار پر نہیں ہیں لیکن یہاں ضرورت کی بنا پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔
مبارک بن سحیم اگرچہ اس کتاب کے معیار پر نہیں ہیں لیکن یہاں ضرورت کی بنا پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔