حدیث نمبر: 405
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا مبارَك أبو سُحَيم مولى عبد العزيز بن صهيب، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك، عن النبي ﷺ: أنه سأل ربَّه أربعًا: سأل ربَّه أن لا تموتَ أُمَّتُه (1) جوعًا، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يجتمعوا على ضلالةٍ، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يرتدُّوا كفارًا، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يَغلِبَهم عدوٌّ لهم فيستبيحَ بَيْضتَهم، فأُعطيَ ذلك، وسأل ربَّه أن لا يكونَ بأسُهم بينهم، فلم يُعطَ ذلك (2). أما مُبارَك بن سُحَيم، فإنه ممَّن لا يُمشَّي في مثل هذا الكتاب، لكني ذكرتُه اضطرارًا. الحديث الثالث في حُجَّة العلماء بأنَّ الإجماع حُجَّة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب سے چار چیزیں مانگیں: یہ کہ ان کی امت بھوک سے ہلاک نہ ہو (یہ عطا کر دی گئی)، یہ کہ وہ گمراہی پر اکٹھے نہ ہوں (یہ بھی عطا کر دی گئی)، یہ کہ وہ کافر ہو کر مرتد نہ ہو جائیں (یہ بھی عطا کر دی گئی)، اور یہ کہ کوئی بیرونی دشمن انہیں جڑ سے نہ مٹا دے (یہ بھی عطا کر دی گئی)؛ اور آپ ﷺ نے یہ بھی مانگا کہ ان کی آپس میں لڑائی نہ ہو، تو یہ (پانچویں چیز) عطا نہیں کی گئی۔
مبارک بن سحیم اگرچہ اس کتاب کے معیار پر نہیں ہیں لیکن یہاں ضرورت کی بنا پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 405
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، مبارك أبو سحيم» [ترقيم الرساله 405] [ترقيم الشركة 399]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) لفظ "أمته" سقط من (ز) و (ب) وأثبتناه من (ص) و (ع).
نوٹ / توضیح: لفظ "أمتہ" (ز) اور (ب) نسخوں سے ساقط ہے، ہم نے اسے (ص) اور (ع) نسخوں کی روشنی میں درج کیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، مبارك أبو سحيم - وهو ابن سحيم - متروك.
درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے کیونکہ اس کا راوی مبارک ابو سحیم (ابن سحیم) "متروک" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 405 سے ماخوذ ہے۔