المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
لَا يَجْمَعُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى الضَّلَالَةِ أَبَدًا باب: اللہ تعالیٰ کبھی اس امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔
ما حدَّثناه أبو الحسن محمد بن الحسين بن منصور، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يونس البَزَّاز، حدثنا أبو بكر بن نافع، حدثنا معتمِر بن سليمان، حدثني سليمان أبو عبد الله المدني، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله لا يَجمَعُ أمَّتي - أو قال: أمَّة محمد ﷺ على ضلالةٍ أبدًا، ويدُ الله على الجماعة - وقال بيده يَبسُطُها - إِنَّه مَن شَذَّ شَذَّ في النار" (2). قال الحاكم: فقد استقرَّ الخلافُ في إسناد هذا الحديث على المعتمر بن سليمان - وهو أحد أركان الحديث - من سبعة أوجهٍ لا يَسَعُنا أن نَحكُم أَنَّ كلَّها محمولة على الخطأ، ولا أنَّ كلَّها محمولة على الصواب، وقد كنتُ أسمع أبا علي الحسين بن علي الحافظ يحكم بالصواب لقول من قال: عن المعتمر عن سليمان بن سفيان المديني عن عبد الله بن دينار، ونحن إذا قلنا هذا القول نَسَبْنا الراوي إلى الجهالة فوَهَّنّا به الحديث، ولكنا نقول: إنَّ المعتمر بن سليمان أحدُ أئمَّة الحديث، وقد رُوِيَ عنه هذا الحديث بأسانيدَ يَصِحُّ بمثلها الحديث، فلا بدَّ من أن يكون له أصل بأحد هذه الأسانيد. ثم وَجَدْنا للحديث شواهدَ من غير حديث المعتمر لا أدَّعي صحتَها ولا أحكمُ بتوهينها، بل يَلْزَمُني ذِكرُها لإجماع أهل السُّنّة على هذه القاعدة من قواعد الإسلام، فممَّن رُوِيَ عنه هذا الحديث من الصحابة عبدُ الله بن عباس:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ میری امت کو (یا فرمایا: محمد ﷺ کی امت کو) کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے“ (آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا کر اشارہ فرمایا)، ”یقیناً جو جماعت سے الگ ہوا وہ آگ میں اکیلا گیا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد میں معتمر بن سلیمان (جو کہ ستونِ حدیث ہیں) سے سات طرح کے اختلافات منتقلب ہوئے ہیں، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب غلط ہیں یا سب صحیح۔ البتہ معتمر ایک بڑے امام ہیں اور یہ حدیث ان سے ایسی اسناد کے ساتھ مروی ہے جن سے حدیث صحیح ثابت ہوتی ہے، لہٰذا ان اسناد میں سے کسی نہ کسی میں اس کی اصل ضرور موجود ہے۔ پھر اس حدیث کے دیگر شاہد بھی موجود ہیں جو اس قاعدے کو تقویت دیتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور اس حوالے سے سابقہ حدیث نمبر (398) ملاحظہ فرمائیں۔