کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ سوار ہوتے گدھے پر اور اون کا لباس پہنتے تھے۔
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو بكر محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا شيبان أبو معاوية، عن أشعث بن أبي الشَّعثاء، عن أبي بُردة، عن أبي موسى قال: كان رسول الله ﷺ يَركَبُ الحمارَ ويَلبَسُ الصوف، ويعتقلُ الشاةَ، ويأتي مَدْعاةَ (1) الضيف (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 204 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 204 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سواری فرماتے تھے گدھے پر ، اونی لباس زیبِ تن کرتے تھے، (عاجزی کی بنا پر) خود بکری کا پاؤں باندھتے (یا اسے تھامتے) تھے اور مہمان کی دعوت قبول فرماتے تھے۔
حدثنا أبو الطيِّب محمد بن أحمد الحِيرِي، حدثنا أبو بكر محمد (3) بن نُعيم المَدَني، حدثنا بِشر بن خالد العَسكَري، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا شَيْبان أبو معاوية، عن أشعثَ بن أبي الشَّعْثاء، عن أبي بُردة، عن أبي موسى قال: كان رسول الله ﷺ يركبُ الحمار، ويلبسُ الصوف، ويعتقلُ الشاةَ، ويأتي مراعاة (1) الضيف (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما ذكرتُه في هذه المواضع لأنَّ هذه الخِلالَ من الإيمان. وله شاهد ينفردُ به زَبَّانُ، ولم يُخرجاه:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما ذكرتُه في هذه المواضع لأنَّ هذه الخِلالَ من الإيمان. وله شاهد ينفردُ به زَبَّانُ، ولم يُخرجاه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سواری فرماتے تھے گدھے پر ، اونی لباس زیبِ تن کرتے تھے، خود بکری کا پاؤں باندھتے تھے اور مہمان کی خاطر تواضع اور رعایت فرماتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے ان عادات و فضائل کا ان مقامات پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ خصائل ایمان کا حصہ ہیں، اور اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی ہے جسے زبان (نامی راوی) تنہا روایت کرتے ہیں اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے ان عادات و فضائل کا ان مقامات پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ خصائل ایمان کا حصہ ہیں، اور اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی ہے جسے زبان (نامی راوی) تنہا روایت کرتے ہیں اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔