المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُ الْحِمَارَ ، وَيَلْبَسُ الصُّوفَ باب: رسول اللہ ﷺ سوار ہوتے گدھے پر اور اون کا لباس پہنتے تھے۔
حدیث نمبر: 206
حدثنا أبو الطيِّب محمد بن أحمد الحِيرِي، حدثنا أبو بكر محمد (3) بن نُعيم المَدَني، حدثنا بِشر بن خالد العَسكَري، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا شَيْبان أبو معاوية، عن أشعثَ بن أبي الشَّعْثاء، عن أبي بُردة، عن أبي موسى قال: كان رسول الله ﷺ يركبُ الحمار، ويلبسُ الصوف، ويعتقلُ الشاةَ، ويأتي مراعاة (1) الضيف (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما ذكرتُه في هذه المواضع لأنَّ هذه الخِلالَ من الإيمان. وله شاهد ينفردُ به زَبَّانُ، ولم يُخرجاه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سواری فرماتے تھے گدھے پر ، اونی لباس زیبِ تن کرتے تھے، خود بکری کا پاؤں باندھتے تھے اور مہمان کی خاطر تواضع اور رعایت فرماتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے ان عادات و فضائل کا ان مقامات پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ خصائل ایمان کا حصہ ہیں، اور اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی ہے جسے زبان (نامی راوی) تنہا روایت کرتے ہیں اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في (ب) والمطبوع: أبو بكر بن محمد، بزيادة "بن" وهو خطأ، والمدني: نسبةً إلى مدينة نيسابور، والأصح في هذه النسبة: المديني، بزيادة الياء فيها، وقد ذكر محمد بن نعيمٍ هذا السمعاني في كتابه "الأنساب" 11/ 203 - 204 في رسم (المديني).
فنی نکتہ / تصحیح: مطبوعہ میں "ابوبکر بن محمد" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "ابوبکر محمد" ہے۔
نوٹ / توضیح: راوی کی نسبت "المدنی" نیشاپور کے ایک محلے کی طرف ہے، مگر علامہ سمعانی کے نزدیک زیادہ درست نسبت "المدینی" (یاء کے اضافے کے ساتھ) ہے۔
(1) في (ص): مداعاة بالدال المهملة.
فنی نکتہ / تصحیح: نسخہ (ص) میں لفظ "مداعاة" دال کے ساتھ درج ہے۔
(2) حديث صحيح بسابقه، وهذا إسناد حسن من أجل شيخ المصنف، ومن فوقه ثقات.
درجۂ حدیث: گزشتہ شاہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، اور امام حاکم کے استاد کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه مختصرًا البزار في "مسنده" (3128) عن بشر بن خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بزار نے اپنی مسند (3128) میں بشر بن خالد کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / تصحیح: مطبوعہ میں "ابوبکر بن محمد" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "ابوبکر محمد" ہے۔
نوٹ / توضیح: راوی کی نسبت "المدنی" نیشاپور کے ایک محلے کی طرف ہے، مگر علامہ سمعانی کے نزدیک زیادہ درست نسبت "المدینی" (یاء کے اضافے کے ساتھ) ہے۔
(1) في (ص): مداعاة بالدال المهملة.
فنی نکتہ / تصحیح: نسخہ (ص) میں لفظ "مداعاة" دال کے ساتھ درج ہے۔
(2) حديث صحيح بسابقه، وهذا إسناد حسن من أجل شيخ المصنف، ومن فوقه ثقات.
درجۂ حدیث: گزشتہ شاہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، اور امام حاکم کے استاد کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه مختصرًا البزار في "مسنده" (3128) عن بشر بن خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بزار نے اپنی مسند (3128) میں بشر بن خالد کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 206 سے ماخوذ ہے۔