کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جنت میں کمزور اور مظلوم لوگ جائیں گے اور جہنم میں ہر سرکش متکبر اور سخت دل شخص جائے گا
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني موسى بن عُلَيِّ بن رَبَاحٍ، عن أبيه، عن سُرَاقة ابن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "ألا أنبِّئُكم بأهل الجنة؟ المغلوبون الضعفاءُ، وأهلُ النار كلُّ جَعظَرِيٍّ جوَّاظٍ مستكبِرٍ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 202 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 202 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ وہ لوگ ہیں جو (دنیا والوں کی نظر میں) مغلوب اور کمزور سمجھے جاتے ہیں، اور (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ) اہل جہنم ہر وہ شخص ہے جو بد زبان، سخت مزاج اور تکبر کی وجہ سے اکڑ کر چلنے والا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا سهل بن بكَّار، حدثنا حمَّاد سَلَمة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ فيما يَحْكي عن ربَّه ﷿ قال: "الكبرياءُ رِدَائي، فمن نازَعَني رِدائي قَصَمتُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الأغرِّ عن أبي هريرة بغير هذا اللفظ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 203 - أخرجه مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الأغرِّ عن أبي هريرة بغير هذا اللفظ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 203 - أخرجه مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”بڑائی میری چادر ہے، پس جس کسی نے بھی میری اس چادر (صفتِ کبریا) کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا کیا (یعنی تکبر کیا) تو میں اسے توڑ کر رکھ دوں گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اسے اغر کی حدیث سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان الفاظ کے علاوہ (دیگر الفاظ) کے ساتھ روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اسے اغر کی حدیث سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان الفاظ کے علاوہ (دیگر الفاظ) کے ساتھ روایت کیا ہے۔