حدیث نمبر: 207
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زَبَّانَ بن فائدٍ، عن سهل بن معاذ بن أنس الجُهني، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ قال: "مَن ترك اللباس وهو قادرٌ عليه تواضعًا لله، دَعَاهُ اللهُ على رؤوس الخلائق حتى يُخيَّرَ في حُلَل الإيمان يَلبَسُ أَيُّها شاء" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 206 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر عاجزی و انکساری اختیار کرتے ہوئے (عمدہ اور قیمتی) لباس پہننا ترک کر دیا حالانکہ وہ اسے (پہننے کی) پوری قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے (جنتی) جوڑوں میں سے جو بھی پسند کرے پہن لے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 207
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف زَبَّان بن فائد، وقد تابعه أبو مرحوم عبد الرحيم ابن ميمون ـ وهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد - فيما سيأتي عند المصنف نفسه برقم (7559)، ولم ينفرد به زبان كما زعم هنا- وسهل بن معاذ حسن الحديث-» [ترقيم الرساله 207] [ترقيم الشركة 206] [ترقيم العلميه 206]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف زَبَّان بن فائد، وقد تابعه أبو مرحوم عبد الرحيم ابن ميمون ـ وهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد - فيما سيأتي عند المصنف نفسه برقم (7559)، ولم ينفرد به زبان كما زعم هنا. وسهل بن معاذ حسن الحديث.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: زبان بن فائد اگرچہ ضعیف ہیں، مگر ابومرحوم عبدالرحیم (جو متابعات میں حسن الحدیث ہیں) نے ان کی متابعت کی ہے جو نمبر (7559) پر آئے گی۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ زبان اس روایت میں اکیلے ہیں۔ سہل بن معاذ بھی حسن الحدیث راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 24 / (15619) من طريق ابن لهيعة، عن زبّان، بهذا الإسناد - بأطول مما هنا.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (24/15619) میں ابن لہیعہ عن زبان کی سند سے زیادہ تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "من ترك اللباس" يعني: الفاره الفاخر منه.
نوٹ / توضیح: "جس نے لباس چھوڑا" سے مراد انتہائی قیمتی اور فخریہ لباس کو عاجزی کی بنا پر ترک کرنا ہے۔
وقوله: "في حُلل الإيمان" أي: حلل أهل الإيمان.
نوٹ / توضیح: "ایمان کے جوڑوں میں" سے مراد اہل ایمان کے لیے (آخرت میں) تیار کردہ اعزازی لباس ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 207 سے ماخوذ ہے۔