کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ ولاء بڑے یعنی میت کے سب سے قریبی کے لئے ہے
٣٣٧١٢ - حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم أن عليًا وعبد اللَّه وزيدًا قالوا: الولاء (للكبر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، عبداللہ رضی اللہ عنہ ، اور زید رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ولاء بڑے کے لئے ہے۔
٣٣٧١٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عمر وعبد اللَّه وزيد قالوا: الولاء (للكبر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم حضرت عمر، عبد اللہ اور زید رضی اللہ عنہ م سے روایت کرتے ہیں کہ ولاء بڑے کے لئے ہے۔
٣٣٧١٤ - حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أنه قضى فيه كما يقضي في المال.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ شریح نے اس کے بارے میں وہی فیصلہ فرمایا ہے جو مال میں کیا جاتا ہے، اور علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ بڑے کو دیا کرتے تھے۔
٣٣٧١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر وسفيان عن عمران بن مسلم بن رياح الثقفي عن عبد اللَّه بن معقل عن علي قال: الولاء شعبة من الرق، فمن أحرز الميراث أحرز الولاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن معقل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ولاء غلامی کا ایک شعبہ ہے، پس جو میراث لیتا ہے وہی ولاء بھی لے گا۔
٣٣٧١٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن ابن رياح عن سالم بن عبد اللَّه قال: الولاء (للكبر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ریاح روایت کرتے ہیں کہ سالم بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ولاء بڑے کے لئے ہے۔
٣٣٧١٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ليث عن طاوس قال: الولاء (للكبر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
لیث روایت کرتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے فرمایا کہ ولاء بڑے کے لئے ہے۔
٣٣٧١٩ - حدثنا وكيع ثنا سفيان (عن قيس) (١) بن مسلم عن أبي مالك الغفاري قال: (إذا مات) (٢) المعتق الأول (فأيكم) (٣) من يرثه فله ولاء مولاه.
مولانا محمد اویس سرور
قیس بن مسلم روایت کرتے ہیں کہ ابو مالک غفاری نے فرمایا کہ جب پہلا آزاد کرنے والا مرجائے تو جو بھی اس کا وارث ہو اس کے لئے اس کے مولیٰ کی ولاء ہے۔
٣٣٧٢٠ - حدثنا هشيم عن يونس عن ابن سيرين قال: إذا مات مولى القوم نظر إلى أقرب الناس منه فجعل له ميراثه.
مولانا محمد اویس سرور
یونس ابن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ جب کسی جماعت کا آزاد شدہ غلام مرجائے تو اس کے سب سے قریبی شخص کو دیکھا جائے گا اور اس کو اس کی میراث دی جائے گی۔
٣٣٧٢١ - حدثنا وكيع عن أبي عاصم عن الشعبي قال: كان شريح يجري الولاء مجرى المال.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ شریح ولاء کو مال کے قائم مقام قرار دیتے تھے ، شعبی فرماتے ہیں کہ اھل مدینہ فرماتے تھے کہ ولاء بڑے کے لئے ہے۔
٣٣٧٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن أبي عون أن شريحًا قضى في (آل) (١) الأشعث أن الولاء بين العم و (بني) (٢) الأخ.
مولانا محمد اویس سرور
ابن عون فرماتے ہیں کہ شریح نے آلِ اشعث کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ ولاء چچا اور بھتیجوں کے درمیان تقسیم ہوگی۔