٣٢٩٦٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد عن أبيه أنه قال: مرض مرضًا أشفى منه، فأتاه النبي ﷺ يعوده، فقال: يا رسول اللَّه، إن لي مالًا كثيرًا وليس يرثني إلا ابنة (لي) (١) أفأتصدق بالثلثين؟ قال: "لا"، قال: ⦗٢١٤⦘ (الشطر؟) (٢) قال: "لا"، (قلت) (٣): فالثلث؟ (قال: "الثلث، (والثلث)) (٤) (٥) كثير" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
عامر بن سعد روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ اتنا بیمار ہوا کہ قریب المرگ ہوگیا، میرے پاس عیادت کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میرا وارث میری ایک بیٹی کے علاوہ کوئی نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی حصّہ صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! میں نے عرض کیا : تو کیا آدھا مال صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! میں نے عرض کیا : اور ایک تہائی ؟ آپ نے فرمایا : ایک تہائی بہت ہے۔
٣٢٩٦١ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن ابن عباس قال: وددت أن الناس غضوا من الثلث إلى الربع؛ لأن رسول اللَّه ﷺ قال: "الثلث كثير" (١).
مولانا محمد اویس سرور
عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ لوگوں نے ایک تہائی سے کم کر کے ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنا شروع کردی، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ایک تہائی بہت ہے۔
٣٢٩٦٢ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه أن الزبير أوصى بثلثه (١).
مولانا محمد اویس سرور
عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک تہائی مال کی وصیت کی تھی۔
٣٢٩٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: ذكر عند عمر الثلث في الوصية، (فقال) (١): الثلث وسط، لا بخس ولا شطط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک تہائی مال کی وصیت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ایک تہائی درمیانی مقدار ہے۔ نہ بہت کم ہے نہ بہت زیادہ۔
٣٢٩٦٤ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أن معاذ بن جبل قال: إن اللَّه تصدق عليكم بثلث أموالكم زيادة في حياتكم -يعني الوصية (١).
مولانا محمد اویس سرور
مکحول سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے مالوں کا ایک تہائی عطا فرما کر تمہاری زندگی میں اضافہ فرما دیا ہے، اور وہ اس سے وصیت مراد لے رہے تھے۔
٣٢٩٦٥ - حدثنا أبو معاوية عن جعفر بن برقان عن خالد بن أبي عزة قال: قال أبو بكر: (آخذ) (١) من (مالي) (٢) ما أخذ اللَّه، من الفيء ⦗٢١٥⦘ فأوصى بالخمس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
خالد بن ابی عزّہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے فرمایا میں اپنے مال میں سے اتنا لیتا ہوں جتنا اللہ تعالیٰ نے مال فیٔ میں سے لیا ہے، اس کے بعد اپنے مال کے پانچویں حصّے کی وصیت کردی۔
٣٢٩٦٦ - حدثنا أبو معاوية عن جويبر عن الضحاك قال: أوصى أبو بكر وعلي بالخمس (١).
مولانا محمد اویس سرور
ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کے پانچویں حصّے کی وصیت فرمائی تھی۔
٣٢٩٦٧ - حدثنا ابن علية عن حميد (١) عن بكر (٢) (أن) (٣) (حميد) (٤) بن عبد الرحمن قال: ما كنت (لأقبل) (٥) وصية رجل يوصي بالثلث وله ولد.
مولانا محمد اویس سرور
بکر فرماتے ہیں کہ حضرت حمید بن عبد الرحمن نے فرمایا کہ میں اس آدمی کی وصیت قبول نہیں کرتا جس نے اولاد کے ہوتے ہوئے ایک تہائی مال کی وصیت کی ہو۔
٣٢٩٦٨ - حدثنا أبو خالد عن هشام عن محمد عن شريح قال: الثلث (جهد) (١) وهو جائز.
مولانا محمد اویس سرور
محمد روایت کرتے ہیں کہ حضرت شریح نے فرمایا کہ ایک تہائی مال بہت عمدہ ہے اور اس کی وصیت جائز ہے۔
٣٢٩٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن (بشير) (١) بن عقبة عن يزيد بن الشخير قال: كان مطرف يرى الخمس في الوصية (حسنًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یزید بن شخّیر فرماتے ہیں کہ حضرت مطرّف مال کے پانچویں حصّے کی وصیت کو اچھا سمجھتے تھے۔
٣٢٩٧٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يقولون (الذي) (١) يوصي بالخمس أفضل من الذي يوصي بالربع، والذي يوصي بالربع أفضل من الذي يوصي بالثلث.
مولانا محمد اویس سرور
اعمش روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ علماء فرمایا کرتے تھے کہ جو آدمی مال کے پانچویں حصّے کی وصیت کرے وہ اس آدمی سے بہتر ہے جو ایک چوتھائی مال کی وصیت کرے، اور ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنے والا ایک تہائی مال کی وصیت کرنے والے سے افضل ہے۔
٣٢٩٧١ - حدثنا يعلى وابن نمير عن إسماعيل عن الشعبي قال: إنما كانوا يوصون بالخمس والربع، والثلث منتهى الجامح.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل سے روایت ہے کر حضرت شعبی نے فرمایا کہ پہلے لوگ پانچویں حصّے یا چوتھائی مال کی وصیت کرتے تھے ، اور تہائی مال جلد باز کی آخری حدّ ہے، ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ ایک تہائی جلد بازی کی انتہا ہے۔
٣٢٩٧٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: لأن أوصي بالخمس أحب إلي من (أن) (١) أوصي بالربع؛ ولأن أوصي بالربع أحب إلي من أن أوصي بالثلث، ومن أوصى (٢) لم يترك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حارث روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مال کے پانچویں حصّے کی وصیت کروں مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں چوتھائی مال کی وصیت کروں، اور چوتھائی مال کی وصیت مجھے تہائی مال کی وصیت سے زیادہ پسند ہے، اور جس شخص نے وصیت کی اس نے اپنے ورثاء کے لئے کچھ نہ چھوڑا۔
٣٢٩٧٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا (مندل) (١) عن الأعمش عن طلحة عن أبي عمار عن عمرو بن شرحبيل قال: الثلث (جنف) (٢)، والربع (جنف) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عمار سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن شرحبیل نے فرمایا کہ ایک تہائی مال کی وصیت ظلم ہے اور ایک چوتھائی مال کی وصیت بھی ظلم ہے۔
٣٢٩٧٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا (مندل) (١) عن الأعمش عن مالك بن ⦗٢١٧⦘ الحارث عن العباس (٢) قال: (الربع) (٣) (جنف) (٤)، (والثلث) (٥) (جنف) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
مالک بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عباس نے فرمایا ایک چوتھائی کی وصیت ظلم ہے اور ایک تہائی مال کی وصیت ظلم ہے۔
٣٢٩٧٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور قال: قال إبراهيم: كان يقال: السدس خير من الثلث في الوصية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور سے روایت ہے کہ ابراہیم نے فرمایا وصیت میں چھٹے حصہ کا ہونا تہائی ہونے سے بہتر ہے۔
٣٢٩٧٧ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن أبي عبد الرحمن قال: كانوا يستحبون أن يتركوا من الثلث.
مولانا محمد اویس سرور
عطاء روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ علماء اس بات کو اچھا سمجھتے تھے کہ آدمی ایک تہائی مال میں سے کچھ ورثاء کے لئے چھوڑ دے۔