کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس چور کا بیان جس نے چوری کی سو اس کا ایک ہاتھ اور ایک پائوں کاٹ دیا گیاپھر وہ دوبارہ چوری کرتا ہے
٣٠١٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن (منصور عن) (١) أبي الضحى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الضحی اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : جب چور کئی بار چوری کرے گا تو میں اس کا ہاتھ اور پاؤں کاٹ دوں گا پھر اگر وہ دوبارہ چوری کرے گا تو میں اس کو جیل کی حفاظت میں دے دوں گا۔
٣٠١٣٥ - (و) (١) عن مغيرة عن الشعبي قالا: كان علي يقول: إذا سرق السارق مرارًا قطعت يده و (رجله) (٢) ثم إن عاد استودعته (السجن) (٣) (٤).
٣٠١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: كان علي لا يزيد على أن يقطع السارق يدًا ورجلًا، فإذا (أتي) (١) به بعد ذلك قال: ⦗٣٧٢⦘ إني لأستحي أن لا يتطهر لصلاته، ولكن أمسكوا (كلبه) (٢) عن المسلمين، وأنفقوا عليه من بيت المال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس بات پر زیادتی نہیں کرتے کہ وہ چور کا ایک ہاتھ اور پاوئں کاٹ دیتے پس جب اس کے بعد اسے دوبارہ لایا جاتا تو آپ فرماتے : بیشک مجھے شرم آتی ہے کہ یہ اپنی نماز کے لیے بھی پاکی حاصل نہ کرسکے لیکن تم مسلمانوں کو اس کے شر سے دور کردو اور اس پر بیت المال سے خرچ کرو۔
٣٠١٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن الزهري قال: انتهى أبو بكر في قطع السارق إلى اليد والرجل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے چور کے کاٹنے میں ایک ہاتھ اور ایک پاؤں تک انتہا کی۔
٣٠١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن مكحول أن عمر قال: إذا سرق فاقطعوا يده، ثم إن عاد فاقطعوا رجله، ولا تقطعوا يده الأخرى وذروه يأكل بها الطعام ويستنجي بها من الغائط، ولكن احبسوه عن المسلمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا : جب چور چوری کرے تو تم اس کا ایک ہاتھ کاٹ دو پھر اگر وہ دوبارہ چوری کرے تو تم اس کی ایک ٹانگ کاٹ دو اور تم اس کا دو سرا ہاتھ مت کاٹو اس کو چھوڑدو تا کہ وہ اس کے ذریعہ کھانا کھائے اور اپنا پاخانہ صاف کرے لیکن تم مسلمانوں سے اسے قید کردو۔
٣٠١٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم (قال) (١): لا تتركوا بن آدم كالبهيمة، يترك له (يد) (٢) يأكل بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : ابن آدم کو جانور کی طرح مت چھوڑو۔ اس کا ایک ہاتھ چھوڑ دو تاکہ اس کے ذریعہ کھائے۔
٣٠١٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أن أبا بكر أراد أن يقطع الرجل بعد اليد (والرجل) (١) فقال (له) (٢) عمر: السنة اليد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے ایک ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے بعد دوسری ٹانگ کاٹنے کا ارادہ کیا اس پر حضرت عمر نے ان سے ارشاد فرمایا : سنت ہاتھ کاٹنا ہے۔
٣٠١٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد الحذاء عن عكرمة عن ابن عباس قال: رأيت عمر بن الخطاب قطع يد رجل بعد يده ورجله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ آپ نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا اس کا ایک ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے بعد۔
٣٠١٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء سئل: أيقطع السارق أكثر من يده ورجله؟ قال: لا، ولكنه يحبس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے پوچھا گیا کہ چور کا ایک ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ کوئی عضو کاٹا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں لیکن اسے قید کردیا جائے گا۔
٣٠١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال: كتب نجدة إلى (ابن) (١) عمر يسأله هل قطع النبي ﷺ (٢) الرجل بعد اليد، فكتب إليه أن النبي ﷺ (قد قطع الرجل بعد اليد) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر سوال کیا، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے بعد پاؤں کاٹا تھا ؟ تو آپ نے جواب لکھا ! یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے بعد پاؤں کاٹا تھا۔
٣٠١٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني عبد ربه بن أبي أمية بن الحارث عن الحارث بن عبد اللَّه بن أبي ربيعة أنه حدثه وعبد الرحمن بن سابط أيضًا (حدثه) (١) أن النبي ﷺ أتي بعبد قد لسرق فقطع يده، ثم الثانية، فقطع رجله، ثم أتي به فقطع يده، ثم أتي به فقطع رجله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن عبداللہ بن ابو ربیعہ اور حضرت عبدالرحمن بن سابط یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک غلام لایا گیا تحقیق اس نے چوری کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھر دوبارہ چوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا پاؤں کاٹ دیا پھر دوبارہ اسے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھر اسے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا پاؤں کاٹ دیا۔
٣٠١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت عبداللہ بن مسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ نے اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا پھر دوبارہ اسے لایا گیا تو آپ نے اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا۔ پھر اس کو تیسری مرتبہ لایا گیا تو آپ نے فرمایا : یقینا مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس کا یہ ہاتھ کاٹ دوں جس کے ذریعہ وہ کھاتا اور استنجا کرتا ہے۔ بعض راویوں کی حدیث میں یوں ہے : آپ نے اسے مارا اور اسے قید کردیا۔
٣٠١٤٦ - وعن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة أن عليًا أتي بسارق فقطع يده اليمنى، ثم أتي به فقطع رجله اليسرى، ثم أتي به الثالثة فقال: ⦗٣٧٤⦘ إني استحي أن أقطع يده يأكل بها ويستنجي بها، وفي حديث بعضهم ضربه وحبسه (١).
٣٠١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (خالد) (١) عن حجاج عن عمرو [بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة قال: كان علي يقول في السارق: إذا سرق قطعت يده، فإن عاد قطعت رجله، فإن عاد (استودعته) (٢) السجن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ چور کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جب وہ چوری کرے گا تو میں اس کا ایک ہاتھ کاٹ دوں گا پس اگر وہ دوبارہ چوری کرے گا تو میں اس کا ایک پاؤں کاٹ دوں گا پس اگر وہ دوبارہ چوری کرے گا تو میں اسے جیل میں قید کردوں گا۔
٣٠١٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عمرو] (١) بن دينار أن نجدة كتب إلى ابن عباس يسأله عن السارق فكتب إليه بمثل قول علي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر ان سے چور کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ نے اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی مثل جواب لکھا۔
٣٠١٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج عن سماك عن بعض أصحابه أن عمر استشارهم في سارق، فأجمعوا على مثل قول علي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک اپنے بعض اصحاب سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے صحابہ سے چور کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو ان سب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی مثل پر اتفاق کیا۔