٢٩١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن بن أبي ذئب عن ابن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبيه عن السلولي عن معاذ بن جبل عن أبي عبيدة بن الجراح قال: جناية المدبر على مولاه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے ارشاد فرمایا ! مدبر غلام کے جرم کا تاوان اس کے آقا پر ہوگا۔
٢٩١٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: جناية المدبر على مولاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : مدبر غلام کے جرم کا تاوان اس کے آقا پر لازم ہوگا۔
٢٩١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب قال: حدثني (بشير) (١) المكتب أن امرأة دبرت جارية لها فجنت جناية فقضى عمر بن عبد العزيز بجنايتها على مولاتها في قيمة الجارية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی ذئب سے مروی ہے کہ حضرت یسیر مکتب نے ارشاد فرمایا کہ کسی عورت نے اپنی باندی کو مدبرہ بنادیا۔ پھر اس باندی سے کوئی قابل سزا جرم سر زد ہوگیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی جنایت کا تاوان اس کی مالکہ پر ہوگا اس باندی کی قتم کے مطابق۔
٢٩١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في جناية المدبر قال: هو عبد، إن شاء مولاه أسلمه، وإن شاء فداه.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے مدبر غلام کے جرم کرنے کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ وہ تو غلام ہے اگر اس کا آقا چاہے تو اس کو سپرد کردے اور اگر چاہے تو اس کو فدیہ دے کر چھڑا لے۔
٢٩١١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم وحماد عن إبراهيم قال: إذا قتل المدبر قتيلًا أو فقأ عينًا قيل لمولاه ادفعه أو افده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد ان دونوں حضرات سے روایت ہے کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب مدبر غلام کسی شخص کو قتل کردے یا کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو اس کے آقا کو کہا جائے گا اس غلام کو ان کے سپرد کردے یا اس کی طرف سے فدیہ ادا کرے۔
٢٩١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن سالم عن (عامر) (١) قال: جناية المدبر وأم الولد على عاقلة مواليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سالم سے مروی ہے کہ حضرت عامر شعبی نے ارشاد فرمایا مدبر غلام اور ام ولد کی جنایت کا تاوان ان کے آقا کے عصبی رشتہ داروں پر لازم ہوگا۔
٢٩١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: على مواليهم الدية إذا قتلوا، وإن قُتلوا فديتهم دية المملوك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حماد نے ارشاد فرمایا : مدبر غلاموں کے آقا پر لازم ہوگی جب یہ کسی کو قتل کردیں اور ان کو قتل کردیا جائے تو ان کی دیت وہی ہوگی جو غلاموں کی دیت ہوتی ہے۔
٢٩١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن خالد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: جناية المدبر على سيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : مدبر غلام کے جرم کا تاوان اس کا آقا پر لازم ہوگا۔
٢٩١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: جناية المدبر على مولاه يضمن قيمته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان کو فرماتے ہوئے سنا مدبر غلام کے جرم کا تاوان اس کے آقا پر ہوگا جو غلام کی قیمت کے بقدر ضمان ادا کرے گا جبکہ حضرت ابن ابی لیلی نے مدبر غلام کے بارے میں ارشاد فرمایا : آقا پر ہی مکمل تاوان لازم ہوگا۔