٢٩٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) وابن علية عن خالد عن ابن سيرين عن شريح في عبد جرح حرًا قال: إن شاء اقتص منه، وإن شاء أخذ (بخماشته) (٢) (أرشًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاضی شریح سے اس غلام کے بارے میں کہ جو کسی آزاد کو زخمی کردے ارشادمروی ہے کہ اگر وہ چاہے تو قصاص لے لے اور اگر چاہے تو اپنے زخم کے بدلہ میں تاوان لے لے۔
٢٩٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جوير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا شج الحر العبد متعمدًا فإنما (هي) (١) دية ليس (٢) عليه قود.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کا ارشاد ہے کہ جب آزاد آدمی کو جان بوجھ کر زخمی کردے تو اس کے بدلہ میں صرف دیت ہوگی اور اس کے اوپر قصاص نہیں ہوگا۔
٢٩٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن محمد بن (عمرو) (١) عن عمر ابن عبد العزيز قال: لا يقاد الحر من العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے کہ آزاد سے غلام کے بدلہ میں قصاص نہیں لیا جائے گا۔
٢٩٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الشعبي والحسن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کا ارشاد ہے کہ غلاموں اور آزاد لوگوں کے درمیان ” فِیمَا دُونَ النَّفْسِ “ میں قصاص نہیں ہے (یعنی قتل کے علاوہ قصاص نہیں ہے)
٢٩٠٠٦ - والحكم عن إبراهيم قال: ليس بين (المملوكين والأحرار) (١) قصاص فيما دون النفس.
٢٩٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريح قال: قلت لعطاء: العبد يشج الحر أو يفقأ عينه، فيريد الحر أن يستقيد من العبد، قال: لا يستقيد حر من عبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ میں نے عطاء سے سوال کیا کہ غلام جب آزاد آدمی کو زخمی کردے یا اس کی آنکھ پھوڑ دے پھر آزاد اس سے قصاص لینا چاہے تو، تو انہوں نے جواب دیا کہ آزاد غلام سے قصاص نہیں لے سکتا اور اسی طرح حضرت مجاہد اور سلیمان بن موسیٰ نے بھی فرمایا ہے۔
٢٩٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرت عن سالم قال: لا يستقيد العبد من الحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ مجھ کو سالم سے یہ خبر ملی ہے کہ غلام آزاد سے قصاص نہیں لے گا۔
٢٩٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: لا قود بين الحر والعبد، إلا أن العبد إذا قَتل الحر قُتل به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری کا ارشاد ہے کہ آزاد اور غلام کے درمیان اس کے علاوہ اور کوئی قصاص نہیں کہ غلام آزاد کو قتل کردے تو غلام کو بھی بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔