٢٤٠٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر قال: اشترى عمر من رجل فرسا، واستوجبه على إن رضيه وإلا فلا بيع بينهما، فحمل عليه عمر رجلا (من) (١) عنده فعطب الفرس، (فجعلا) (٢) بينهما شريحا، فقال: شريح لعمر: سلم ما (ابتعت) (٣) أو رد ما أخذت، فقال له: (قضيت) (٤) بمر الحق (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص سے گھوڑا خریدا، اور فرمایا اگر تو راضی ہوگیا تو ثمن مجھ پر لازم ہوجائے گا، وگرنہ ہمارے درمیان بیع نہ ہوگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے سامنے اس پر ایک شخص کو سوار کیا، گھوڑا جلدی تھک گیا، حضرت شریح کو ان کے درمیان حاکم بنایا، حضرت شریح نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جو آپ نے خریدا ہے وہ سپرد کردو یا جو آپ نے لیا ہے وہ واپس کردو، حضرت عمر نے ان سے فرمایا : آپ نے کڑوے حق کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔ حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ان کو کوفہ کے قضاء کے لئے اور حضرت کعب بن سور کو بصرہ کے قضاء کے لئے بھیجا۔
٢٤٠٧١ - قال زكريا: قال (عامر) (١): (وبعثه) (٢) على قضاء الكوفة، وبعث ⦗٤١١⦘ كعب بن (سور) (٣) على قضاء البصرة (٤).
٢٤٠٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر عن (١) (أبي) (٢) (قرة) (٣) عن (سلمان) (٤) بن ربيعة الباهلي في رجل اشترى من رجل سلعة على أن ينظر إليها وقطع (الثمن) (٥) فماتت، فضمنه (سلمان) (٦) ابن ربيعة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن ربیعہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے سے اس شرط پر سامان خریدا کہ اس کو دیکھے گا، اور پھر ثمن کو ابھی ادا نہیں کیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ حضرت سلمان بن ربیعہ نے اس کو ضامن بنایا۔
٢٤٠٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر في الرجل يشتري السلعة على أن ينظر إليها فماتت، قال: يضمن (المشتري) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ آدمی اس شرط پر سامان خریدے کہ اس کو دیکھے گا، پھر وہ ہلاک ہوجائے، فرمایا : مشتری ضامن ہوگا۔
٢٤٠٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى ابن عتيق عن الحسن قال: يضمن المشتري إذا كان بالخيار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر خیار ہو تو مشتری ضامن ہوگا۔
٢٤٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان ⦗٤١٢⦘ يقول: إذا اشترى الرجل المتاع على أنه فيه بالخيار، فهلك من عنده، قال: إن كان سمى الثمن فهو (له ضامن، وإن لم يكن سمى الثمن فهو) (١) فيه مؤتمن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خیار کے ساتھ سامان خریدے، پھر وہ اس کے پاس ہلاک ہوجائے، اگر تو اس نے ثمن مقرر کردیا ہے تو وہ ضامن ہوگا، اور اگر ثمن مقرر نہیں کیا تو وہ امانت دار ہے۔ (امانت پر ضمان نہیں آتی) ۔
٢٤٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: كان ابن أبي ليلى يقول: إذا كان البائع بالخيار فماتت السلعة فليس على المشتري شيء.
مولانا محمد اویس سرور
اگر بیع میں بائع کو خیار ہو پھر سامان مشتری کے پاس ہلاک ہوجائے تو اس پر کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اس پر قیمت لازم ہے۔