٢٣٥٥٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو عاصم الثقفي عن أبي بكر بن أبي موسى أن أباه كان يبيع العصير] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن ابی موسیٰ کے والد انگور کے شیرہ کی بیع کرتے تھے۔
٢٣٥٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن عبد الملك بن عمير عن (عَقّار) (١) (بن) (٢) المغيرة (بن) (٣) شعبة قال: سئل ابن عمر عن بيع الكرم فقال: زببوه ثم بيعوه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے انگوروں کی بیع کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اس کو سکھا لو پھر اس کی بیع کرو۔
٢٣٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن سفيان بن دينار عن مصعب ابن سعد (١) أن صاحب (ضيعة سعد) (٢) أتاه فقال: إن الأعناب قد كثرت، فقال: ⦗٢٧٠⦘ (اتخذوه) (٣) زبيبًا، بعه عنبًا، (فقال) (٤): إنه أكثر من ذلك، قال: فخرج سعد إلى ضيعته فأمر بها فقلعت، وقال لقهرمانه: لا (أئتمنك) (٥) على شيء بعدها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن مسعود سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی زمین والا شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فرمایا : انگور بہت زیادہ ہوگئے ہیں، آپ نے فرمایا ان کو سکھا کر کشمش بنا لو، اس نے عرض کیا کہ وہ اس سے بھی زیادہ ہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ خود زمین کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو اکھاڑنے کا حکم دیا اور وہ اکھاڑ دی گئی، پھر آپ نے اپنے وکیل سے کہا کہ اس کے بعد میں تجھ کو پر کسی معاملہ میں بھروسہ نہیں کروں گا۔
٢٣٥٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حصين أن أبا عبيدة كان له كرم فكان يقول لوكلائه: بيعوه عنبًا فإن لم يشتر فبيعوه عصيرًا حين (تعصرونه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ کے انگور تھے، آپ نے اپنے وکلا سے کہا ہوا تھا اس کو انگور ہونے کی حالت میں فروخت کرو، اور اگر نہ خریدے جائیں تو پھر جس وقت ان کا شیرہ نکالا جائے تو شیرہ نکال کر فروخت کردو۔
٢٣٥٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عمر بن عامر عن قتادة عن سعيد بن المسيب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ انگور کے شیرے کی بیع میں کوئی حرج نہیں ہے جب تک کہ اس میں نشہ نہ ہو۔
٢٣٥٥٩ - و (عن) (١) حماد (٢) عن إبراهيم (قالا) (٣): لا بأس ببيع العصير ما لم يَغِلِ.
٢٣٥٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يبيع العصير (ممن) (١) يجعله خمرًا، قال: أحب (إليّ) (٢) أن (يبيعه) (٣) من ⦗٢٧١⦘ غير (من) (٤) يجعله خمرًا، وإن باعه فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نے اس شخص کے متعلق فرمایا جو انگور ایسے شخص کو فروخت کر رہا تھا جو اس کی شراب بناتا تھا، آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ یہ ایسے شخص کو فروخت کیا جائے جو شراب نہ بناتا ہو، اور اگر شراب والے شخص کو بھی فروخت کر دے تو بھی حرج نہیں ہے۔
٢٣٥٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن أنه سئل عن بيع العصير فقال: بعد ما كان حلوًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے انگور کے شیرے کی بیع کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا جب تک میٹھا ہو فروخت کردو۔
٢٣٥٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط بن محمد عن مطرف عن الحكم في الرجل يكون له الكرم فيبيعه عصيرًا (فقال: إذا باعه عصيرًا) (١) أو عنبًا فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ ایک شخص کے انگور تھے وہ ان کا شیرہ نکال کر فروخت کرتا تھا، آپ نے فرمایا : اس کو انگور ہونے کی حالت میں فروخت کرو یا شیرہ بنا کر دونوں صورتوں میں کوئی حرج نہیں ۔
٢٣٥٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال) (١): نا الحسن بن صالح عن أبي (طوق) (٢) عن عطاء قال: (لا) (٣) (تبع) (٤) العنب ممن يجعله خمرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کو انگور فروخت نہ کرو جو اس کی شراب بناتا ہو۔
٢٣٥٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سألت سفيان عن بيع العصير فقال: بع الحلال ممن شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے انگور کے شیرے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا حلال چیز کو جس طرح چاہو فروخت کرو۔
٢٣٥٦٥ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا وكيع) (١) قال: حدثنا سفيان عن ابن (جريج) (٢) عن عطاء قال: لا (تبع) (٣) العصير ممن يجعله خمرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کو انگور فروخت نہ کرو جو اس کی شراب بناتا ہو۔