کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات ادھار کی ادھار کے ساتھ بیع کرنے کو ناپسند کرتے ہیں
٢٣٥٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا موسى بن عبيدة عن نافع عن ابن عمر أنه كره (كالئا) (١) بكالئ يعني دينا (بدين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ادھار کی ادھار کے ساتھ بیع کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٣٥٥١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عاصم عن الحكم أنه كره آجلًا بآجل، يعني دينًا بدين] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بھی اس کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٣٥٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أسلم المنقري عن عطاء أنه كره (آجلًا) (١) بآجل -يعني دينًا بدين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بھی اس کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٣٥٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن دينار عن (ابن عمر) (١) قال: نهى (رسول اللَّه) (٢) ﷺ أن يباع ⦗٢٦٩⦘ كالئ بكالئ -يعني دينًا (بدين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کی ادھار کے ساتھ بیع کرنے سے منع فرمایا۔