کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: الآبق" (فرار غلام) کو قرار دینا اوراس کے حکم کے بارے میں
٢٣٣٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حفص) (١) عن ابن جريج عن عطاء ⦗٢٠٩⦘ (أو) (٢) ابن (أبي) (٣) مليكة وعمرو بن دينار (قالا) (٤): ما زلنا نسمع أن النبي ﷺ قضى في العبد الآبق يوجد خارجا من الحرم (دينارا (أو) (٥) عشرة) (٦) دراهم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ اور حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھاگے ہوئے غلام کے بارے میں جو کہ حرم سے باہر پکڑا جائے ایک دینار یا دس درہم کا فیصلہ فرمایا ہے۔
٢٣٣٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن (رباح) (١) عن (أبي) (٢) عمرو الشيباني أن رجلا أصاب عبدا آبقًا بعين التمر، فجاء به، فجعل ابن مسعود فيه أربعين (درهمًا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو الشیبانی رحمہ اللہ سے مروی ہے ایک شخص کو بھگوڑا غلام عین التمر میں ملا، وہ اس کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس میں چالیس درہم متعین کیے۔
٢٣٣٤٠ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن عمرو ابن (شعيب) (٢) عن سعيد بن المسيب أن عمر جعل في جعل الآبق دينارا أو اثني عشر (درهمًا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھگوڑے غلام کی مزدوری ایک دینار یا بارہ درہم بنائے۔
٢٣٣٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن حصين عن الشعبي عن (الحارث) (١) عن علي مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
٢٣٣٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج قال: أخبرني ابن أبي مليكة أن عمر بن عبد العزيز قضى في جعل الآبق إذا (أخذ) (١) على (مسيرة) (٢) (ثلاث: ثلاثة دنانير) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا کہ اس بھگوڑے غلام کی مزدوری جس کو تین دن کی مسافت سے پکڑا ہو تین دینار ہیں۔
٢٣٣٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أيوب (١) أبي العلاء عن قتادة وأبي هاشم أن عمر قضى في جعل الآبق أربعين درهمًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھگوڑے غلام کی مزدوری کے بارے میں چالیس درہم کا فیصلہ کیا۔
٢٣٣٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى) (١) بن (أبي) (٢) زائدة عن عبد الرحمن بن (جريس) (٣) عن حماد عن إبراهيم (قال) (٤): لا بأس بجعل الآبق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھگوڑے غلام کو پکڑنے کی مزدوری دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٣٣٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم قال: المسلم يرد على المسلم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان ( بھگوڑے غلام کو پکڑ کر ) مسلمان کو واپس لوٹا دے گا۔
٢٣٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق قال: أعطيت الجعل في زمن معاوية: أربعين درهمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں نے چالیس درہم مزدوری دی۔
٢٣٣٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن هشام عن ابن سيرين عن شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام شہر کے اندر پکڑا جائے تو دس درہم اور اگر شہر سے باہر پکڑا جائے تو چالیس درہم مزدوری ہے۔
٢٣٣٤٨ - وعن سفيان عن جابر عن القاسم عن شريح أنه كان يقول: إذا أُخذ (في) (١) المصر فعشرة دراهم، (وإذا) (٢) أُخذ (خارجًا) (٣) (من) (٤) المصر (فأربعون) (٥) درهمًا.
٢٣٣٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الحكم أنه قال في الآبق (يؤخذ قال) (١): المسلم يرد على المسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھگوڑا غلام اگر پکڑا جائے ، تو مسلمان بغیر مزدوری کے مسلمان کو واپس کر دے۔
٢٣٣٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن جريج عن ابن أبي مليكة وعمرو بن دينار (قالا) (١): جعل النبي ﷺ (٢) في العبد الآبق إذا جيء به (خارجًا من) (٣) الحرم دينارًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی ﷺ بھاگے ہوئے غلام کی مزدوری جب کہ وہ خارج حرم سے پکڑا کر لایا گیا ہو تو ایک دینار مقرر کی ہے۔
٢٣٣٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن عبد الكريم قال: [قلت لعبد اللَّه بن (عتبة) (١): أيجتعل في الآبق؟ (قال) (٢): (نعم) (٣)] (٤)، قلت: الحر؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عقبہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا : کیا آپ بھگوڑے غلام کی مزدوری دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! میں نے عرض کیا اور آزاد کی ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
٢٣٣٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر (عن) (١) عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه (قال) (٢): إن لم يعطه جعلا فليرسله في المكان الذي أخذه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کو پکڑنے کی مزدوری نہ دے تو اس کو جہاں سے پکڑا ہے وہیں پر چھوڑ آؤ۔