٢٣١٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مطرف عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سن کر گواہی دینا جائز ہے۔
٢٣١٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حاتم) (١) بن وردان عن يونس عن (الحسن) (٢) قال: لو أن رجلًا سمع من قوم شيئا فإنه يأتي القاضي فيقول: لم يشهدوني ولكني سمعت كذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی جماعت سے کوئی بات سن لے پھر وہ قاضی کے پاس آئے تو یوں کہے گا کہ انہوں نے مجھے گواہ تو نہیں بنایا لیکن میں نے ایسے ایسے سنا ہے۔
٢٣١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عنِ الحسن (بن) (١) فرات عن أبيه فرات قال: كان لي على رجل (خمسون) (٢) درهمًا، فذهبت أتقاضاه ورجل يسمع، فقمت به إلى شريح فجحدني فقال شريح: بينتك، فقلت: رجل كان يسمع وهو مقر (لي) (٣) فقال: ادع به، فدعوت به فشهد، فقال: قم فأعطه حقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرات سے مروی ہے کہ میرے پچاس درہم کسی شخص کے اوپر تھے، میں اس کے پاس گیا، اس سے قرض کا مطالبہ کیا، اور ایک شخص یہ سب کچھ سن رہا تھا ، میں اس کو حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس لے کر حاضر ہوا، اس نے میرا انکار کردیا، حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا : تیرے گواہ کہاں ہیں ؟ میں نے عرض کیا : ایک شخص یہ سب کچھ سن رہا تھا جبکہ اس نے میرے درہموں کا اقرار کیا تھا، آپ نے فرمایا اس شخص کو بلاؤ، میں نے اس کو بلایا اور اس نے گواہی دی ، حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس شخص سے فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور اس کو اس کا حق ادا کرو۔
٢٣١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيدة (بن) (١) حميد عن الأسود بن قيس عن كلثوم بن الأقمر قال: كان شريح لا يجيز شهادة مختبئ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ مخبوط الحواس شخص کی گواہی کو قبول نہ فرماتے تھے۔
٢٣١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيدة) (١) عن بيان أبي بشر قال: كان الشعبي لا يجيز شهادة (مختبئ) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ مخبوط الحواس شخص کی گواہی کو قبول نہ کرتے تھے۔
٢٣١٥٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق بن منصور عن إسرائيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا تجوز شهادة المختبئ] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مخبوت الاحواس شخص کی گواہی معتبر نہیں ہے۔
٢٣١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أنه كان لا يجيز شهادة المختبئ. - قال: قال عمرو بن حريث: كذا يفعل بالخائن الظالم -أو قال-: (الفاجر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ مخبوط الحواس شخص کی گواہی کو معتبر نہ سمجھتے تھے۔ حضرت عمرو بن حریث فرماتے ہیں کہ یہی معاملہ ظالم خائن کی گواہی کے ساتھ کیا جائے گا۔
٢٣١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم والشعبي (قالا) (١): إذا أتاك المشركون فحكموك فيما بينهم (٢) بحكم المسلمين (فلا) (٣) تعده إلى غيره، أو أعرض عنهم، وخلهم وأهل دينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تیرے پاس مشرکین آئیں اور تجھ کو مسلمانوں کے فیصلہ کے مطابق اپنا فیصل مقرر کرلیں تو ان کو غیر اسلام کے فیصلہ کی طرف مت لے جا، یا پھر ان کے اور ان کے اہل دین کے درمیان سے ہٹ جا اور ان سے اعراض کرلے۔