کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک بیع سلم میں کچھ سامان اور باقی مال لینا مکروہ ہے
٢١١٨٨ - حدثنا محمد بن (ميسر) (١) عن ابن جريج عن (عمرو) (٢) بن شعيب (٣) أن عبد اللَّه بن عمرو كان (يسلف) (٤) له في الطعام، فقال (للذي) (٥) كان يسلف له: لا (تأخذ) (٦) بعض (رأس) (٧) (مالنا) (٨) وبعض طعامنا، ولكن (خذ) (٩) رأس مالنا كله أو الطعام وافيًا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ غلے میں بیع سلم کیا کرتے تھے لیکن وہ اس آدمی سے کہتے کہ کچھ غلہ اور کچھ مال نہ لینا۔ یا تو سارا مال لے لو یا سارا غلہ لے لو۔
٢١١٨٩ - حدثنا علي بن مسهر [(عن الشيباني) (١) عن الشعبي قال: سألته عن ⦗٢٥١⦘ رجل يسلم السلم [فيأخذ بعض سلمه (دراهما) (٢)] (٣) بعض سلمه طعاما، فقال: لا تأخذ إلا رأس مالك أو طعاما كله.
مولانا محمد اویس سرور
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سوال کیا کہ اگر بیع سلم میں کوئی کچھ مال اور کچھ سلم کا سامان لے لے تو کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یا تو سارا سامان لے لو یا سارا غلہ لے لو۔
٢١١٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن حماد عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے بھی یونہی منقول ہے۔
٢١١٩١ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي (عمر) (١) عن الحسن قال: سألته عنه فقال: هذا فاسد، لا تأخذ إلا رأس مالك أو طعاما كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ فاسد ہے، یا تو سارا مال لے لو یا سارا سامان لے لو۔
٢١١٩٢ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن عبد اللَّه بن (معقل) (١) في رجل أسلم مائة (درهم) (٢) في طعام فأخذ نصف سلمه طعاما وعسر عليه النصف فقال: لا، (خذ) (٣) رأس مالك جميعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی سے سو درہم کے عوض غلے پر بیع سلم کی اور آدھا غلہ لے لیا اور آدھا مال تو یہ درست نہیں، وہ راس المال پورا لے لے۔
٢١١٩٣ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن إبراهيم في الرجل يسلم (١) فيأخذ نصف سلمه (٢) و (بعض) (٣) (درهم) (٤) فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١١٩٤ - حدثنا (عبد الرحمن) (١) بن مهدي عن زمعة عن (ابن) (٢) طاوس عن أبيه أنه كان يكره أن يأخذ بعض سلمه وبعضا طعاما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١١٩٥ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن عبد اللَّه بن (بشر) (١) عمن يذكر عن أبي سلمة أنه كان يكره أن يأخذ بعض سلمه وبعضا حنطة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١١٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن جبير قال: سمعت ابن عمر يقول: خذ رأس سلمك أو رأس مالك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یا تو سامان لے لو یا مال واپس لے لو۔
٢١١٩٧ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن جرير بن حازم عن قيس بن سعد عن مجاهد أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اسے مکروہ اور حضرت عطاء اسے مباح سمجھتے تھے۔
٢١١٩٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن (جابر) (١) بن زيد أنه كره أن يأخذ بعض سلمه وبعضا طعاما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١٢٠٠ - حدثنا ابن عيينة عن أبي (السوداء) (١) عن (٢) شريح أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١٢٠١ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن أبي الزبير عن سعيد بن جبير أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١٢٠٢ - حدثنا ابن مهدي (عن) (١) سفيان عن ابن أبي ذئب (عن) (٢) سالم والقاسم أنهما كرها أن يأخذ بعض سلمه وبعضا طعاما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اور حضرت قاسم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١٢٠٣ - حدثنا ابن أبي عدي عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين أنه كره أن يأخذ بعض سلمه وبعضا طعاما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١٢٠٤ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) سفيان عن منصور عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
بہت سے علماء نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ بیع سلم میں کچھ مال لے اور کچھ سامان۔
٢١٢٠٨ - وسفيان عن (عطاء) (١) بن السائب عن ابن (معقل) (٢) أنهم كرهوا أن يأخذ الرجل بعض سلمه وبعض رأس ماله.