کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی نے کوئی چیز دیکھے بغیر خریدی تو جن حضرات کے نزدیک اسے رکھنے یاچھوڑنے کا اختیار ہو گا
٢١١٥٩ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: نا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي فيمن اشترى شيئًا لم ينظر إليه كائنا (ما) (٢) كان، قال: هو بالخيار إن شاء أخذ وإن شاء ترك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز دیکھے بغیر خرید لی تو اسے دیکھنے کے بعد اختیار ہے خواہ رکھے یا چھوڑ دے۔
٢١١٦٠ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے بھی یونہی منقول ہے۔
٢١١٦٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم مثله، وزاد فيه: وهو (بالخيار) (١) (وإن) (٢) (وجده) (٣) كما شرط (له) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مذکورہ مضمون میں یہ اضافہ منقول ہے کہ دیکھنے کے بعد اگر طے شدہ شرط کے مطابق ہو پھر بھی اختیار ہے۔
٢١١٦٣ - حدثنا (إسماعيل بن إبراهيم) (١) عن أيوب عن الحسن قال: من اشترى شيئًا لم (يره) (٢) فهو بالخيار إذا رآه،
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی چیز دیکھے بغیر خرید لی تو دیکھنے کے بعد اس کے بارے میں اختیار ہے۔ محمد فرماتے ہیں کہ اگر وہ بیان کردہ وصف کے مطابق تھی تو اب واپس نہیں کرسکتا۔
٢١١٦٥ - [حدثنا هشيم عن يونس (و) (١) ابن عون عن ابن سيرين قال: إذا (وجده) (٢) كما وُصف (له) (٣) فهو جائز، ولا خيار له] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر وہ چیز طے شدہ وصف کے مطابق نکلی تو واپس نہیں کرسکتا۔
٢١١٦٦ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن (محمول) (١) مولى (٢) عمارة قال: (بعت) (٣) من رجل بردين و (شرطت) (٤) عليه إن (نشر) (٥) أحدهما فقد وجب فنشر أحدهما فلم يرضه فجاء يردهما (فأبيت) (٦) عليه، فخاصمته إلى شريح فقال: (لك) (٧) الرضى، (وليس) (٨) له، إنما البيع عن تراض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمول مولی آل عمارہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دو چادریں فروخت کیں اور شرط لگائی کہ اگر تم نے ایک چادر کو کھولا تو دونوں کی بیع لازم ہوگی۔ اس نے ایک چادر کو کھولا، پھر وہ اس بیع سے راضی نہ ہوا اور مجھے واپس کرنے کے لیے آگیا۔ میں نے واپس کرنے سے انکار کیا اور یہ مقدمہ لے کر قاضی شریح کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ تیری رضا ہے اس کی نہیں ہے جبکہ بیع تو باہمی رضامندی کا نام ہے۔
٢١١٦٧ - حدثنا إسماعيل عن أبي بكر بن عبد اللَّه عن مكحول رفعه قال: إذا اشترى الرجل (الشيء) (١) (ولم) (٢) ينظر إليه غائبًا عنه فهو بالخيار إذ انظر إليه؛ إن شاء أخذ (وإن) (٣) شاء ترك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی آدمی کسی چیز کو اس طرح خریدے کہ اس کو دیکھا نہ ہو اور وہ چیز اس سے غائب ہو تو دیکھنے کے بعد اسے اختیار ہے کہ چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
٢١١٦٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث قال: إذا اشترى الرجل العدل من ⦗٢٤٥⦘ (البر) (١) فنظر بعض التجار إلى بعضه فقد وجب عليه إذا (لم يدعوا أن فيها) (٢) عوارا فيما (٣) ينظر إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے گندم کی ایک مخصوص مقدار خریدی اور پھر تاجروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو اس کے باوجود وہ بیع قائم رہے گی۔ ہاں البتہ اگر ظاہر میں کوئی عیب نظر آئے تو ختم کرسکتا ہے۔
٢١١٦٩ - (أخبرنا) (١) غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن رجل رأى (عبدا أمس) (٢) فاشتراه (اليوم) (٣) (ولم يره) (٤) (قالا: لا) (٥) حتى يراه يوم اشتراه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا اگر کوئی کسی سے ایک غلام گذشتہ کل خرید چکا ہو اور اسے دیکھے بغیر آج فروخت کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس دن اسے خریدا ہے اسی دن دیکھے بغیر فروخت نہیں کرسکتا۔