کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر مٹی کی گولی یا پتھر کو شکار پر پھینکا جائے اور شکار مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
٢٠٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) سعيد قال: قال عمار: إذا رميت بالحجر أو البندقة وذكرت اسم اللَّه فكل وإن قتل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ جب تم اللہ کا نام لے کر مٹی کی گولی یا پتھر شکار کی طرف پھینکو تو اس شکار کو کھاؤ خواہ وہ اس کو مار ڈالے۔
٢٠٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يأكل ما (أصابت) (٢) (البندقة) (٣) والحجر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مٹی کی گولی اور پتھر سے شکار کردہ جانور نہیں کھاتے تھے۔
٢٠٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن عبيد اللَّه بن عمر عن القاسم وسالم أنهما كانا يكرهان البندقة إلا ما أدركت ذكاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم مٹی کی گولی سے شکار کردہ جانور کو مکروہ قرار دیتے تھے البتہ جسے ذبح کرنے کا موقع مل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٠٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن عيسى بن المغيرة قال: سألت الشعبي عن المعراض والبندقة فقال: ذلك ما يفتي به أهل الشام وإذا هو لا يراه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے معراض اور مٹی کی گولی سے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل شام اس کے بارے میں کیا فتویٰ دیں حالانکہ انہوں نے اسے دیکھا ہی نہیں۔
٢٠٩٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا تأكل ما أصبت بالبندقة (١) إلا أن تذكي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مٹی کی گولی سے شکار کردہ جانور کو بغیر ذبح کئے مت کھاؤ۔
٢٠٩٠٦ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ليث عن مجاهد قال: ما أصبت بالبندقة أو بالحجر فلا تأكل إلا أن تذكي] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مٹی کی گولی سے شکار کردہ جانور کو بغیر ذبح کیے مت کھاؤ۔
٢٠٩٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر عن قتادة عن سعيد ابن المسيب قال: ما رد عليك حجرك فكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ پتھر سے جو شکار کرو اسے کھالو ، حضرت عکرمہ اسے مکروہ قرار دیتے اور مردہ کہا کرتے تھے۔
٢٠٩٠٩ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن معمر عن ابن أبي نجيح عن مجاهد أنه كرهه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔
٢٠٩١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن (ابن) (١) حرملة (عن سعيد) (٢) قال: كُلْ وحشيةً أصبتها بعصى أو بحجر أو ببندقة وذكرت اسم اللَّه عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ ہر وہ جنگلی جانور جسے تم لاٹھی، پتھر یا پانی کی گولی سے شکار کرو اور اس پر اللہ کا نام لو تو اسے کھالو۔
٢٠٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا قتل الحجر فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب پتھر جانور کو مار ڈالے تو اسے مت کھاؤ۔
٢٠٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: لا تأكل من صيد البندقة إلا ما ذكيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ مٹی کی گولی سے کیا گیا شکار اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک تم اسے ذبح نہ کرو۔
٢٠٩١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: إذا رمى الرجل الصيد بالحجر (بالجُلّاهِقة) (١) فلا تأكله إلا أن تدرك ذكاته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر آدمی شکار کو پتھر یا مٹی کی گولی مارے تو اسے اس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک اسے ذبح کرنے کا موقع نہ پالے۔