٢٠٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن جابر) (١) عن مكحول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الجراد والنون ذكيٌ كله، فكلوه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ٹڈی اور مچھلی ہر حال میں حلال ہیں اس لیے انہیں کھالو۔
٢٠٩١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن جابر بن زيد قال: قال عمر: الحيتان ذكي (كله) (١) والجراد ذكي كله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مچھلیاں ساری کی ساری پاک ہیں اور ٹڈی ساری کی ساری حلال ہے۔
٢٠٩١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه قال علي: الجراد والحيتان ذكي (كله) (١) إلا ما مات في البحر فإنه ميتة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مچھلی اور ٹڈی ساری کی ساری حلال ہیں البتہ اگر وہ سمندر میں مرجائے تو مردار ہے۔
٢٠٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن ابن جريج عن أبي بكر بن حفص قال: قال عبد اللَّه: ذكاة الحوت فك (لحييه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مچھلی کی حلت اس کے جبڑوں کو کھولنا ہے۔
٢٠٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: ذكاة الحوت أخذه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ مچھلی کی حلت اسے پکڑنا ہے۔
٢٠٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية قال: ذكاة الحوت أخذه، والجراد ذكيٌ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ فرماتے ہیں کہ مچھلی کی حلت اسے پکڑنا ہے اور ٹڈی ساری حلال ہے۔