کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اگر باز اپنے شکار میں سے کھا لے تو کیا حکم ہے؟
❮
❯
٢٠٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن مجالد عن الشعبي عن عدي ابن حاتم قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن صيد الباز فقال: ⦗١٥٣⦘ "ما أمسك عليك فكل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے باز کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : کہ باز تمہارے لیے جو شکار کرے اسے کھالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20813
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (١٨٢٥٨)، وأبو داود (٢٨٥١)، والترمذي (١٤٦٧)، وابن جرير في التفسير (١١١٥٦)، والطبراني ١٧/ (١٦٨)، والبيهقي ٩/ ٢٣٨، وابن عبد البر في الاستذكار ١٥/ ٢٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20813، ترقيم محمد عوامة 20002)
٢٠٨١٤ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا وكيع عن سفيان عن سالم عن سعيد قال: إذا أكل فلا تأكل] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ باز اگر شکار میں سے کھائے تو تم مت کھاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20814
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20814، ترقيم محمد عوامة 20003)
٢٠٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ باز کا شکار کھاؤ خواہ اس نے خود اس میں سے کھایا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20815
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20815، ترقيم محمد عوامة 20004)
٢٠٨١٦ - وعن جابر عن الشعبي قالا: كل من صيد البازي، وإن أكل.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20816
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20816، ترقيم محمد عوامة ---)
٢٠٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول في الصقر و (الكلب) (١): إن أصاب منه (أو أكل منه) (٢) فكل وإن أكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر باز اپنے شکار میں سے کھائے پھر بھی تم اس کو کھالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20817
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20817، ترقيم محمد عوامة 20005)
٢٠٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك في الكلب إذا كان معلمًا فأصاب صيدًا (أو) (١) البازي فأكل: فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ سدھایا ہوا کتا یا باز شکار میں سے کچھ کھالے تو تم نہ کھاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20818
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20818، ترقيم محمد عوامة 20006)
٢٠٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن (الشيباني) (١) عن حماد قال: إذا (نتف) (٢) الطير أو أكل فكل؛ فإنما تعليمه أن يرجع إليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر شکاری پرندہ شکار کو نوچے یا کھائے تو تم بھی اس میں سے کھالو کیونکہ اس کی تعلیم بس اتنی ہے کہ وہ تمہارے پاس واپس آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20819
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20819، ترقيم محمد عوامة 20007)
٢٠٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن جابر عن عامر والحكم قالا: إذا أرسلت صقرك أو بازك ثم دعوته فأتاك؛ فذاك (علمه) (١)؛ فإن (أرسلت) (٢) على صيد فأكل فكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر تم اپنے شکرے یا باز کو شکار پر چھوڑو، پھر تم اسے بلاؤ اور وہ تمہارے پاس آجائے تو اس کی تعلیم یہی ہے، ایسے پرندے کو جب تم شکار پر چھوڑو اور وہ اس میں سے کھالے تو تم بھی اسے کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20820
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20820، ترقيم محمد عوامة 20008)
٢٠٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن داود بن أبي الفرات عن محمد بن زيد عن سعيد بن المسيب عن سلمان قال: إذا أرسلت كلبك وبازك فكل وإن أكل ثلثه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے کتے یا باز کو شکار پر چھوڑو تو اس کا شکار کھاؤ خواہ اس کا دو تہائی کھالیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20821، ترقيم محمد عوامة 20009)
٢٠٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (عمر) (١) بن الوليد (الشيني) (٢) عن عكرمة قال: إذا أكل الباز أو الصقر فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اگر باز یا شکرا شکار میں سے کھائے تو اسے نہ کھاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20822
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20822، ترقيم محمد عوامة 20010)
٢٠٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الربيع عن الحسن وعطاء في الباز والصقر يأكل قال عطاء: إذا أكل فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء سے باز اور شکرا کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اگر وہ شکار میں سے کھا لیں تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عطاء نے فرمایا کہ ایسی صورت میں مت کھاؤ۔ حسن نے فرمایا کہ کھالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20823
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20823، ترقيم محمد عوامة 20011)
٢٠٨٢٤ - وقال الحسن: كل.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20824
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20824، ترقيم محمد عوامة ---)
٢٠٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر [[عن ابن طاوس عن أبيه أنه لم ير بصيد الفهد بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس چیتے کے شکار کو جائز سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20825
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20825، ترقيم محمد عوامة 20012)
٢٠٨٢٦ - [(حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن معمر) (١) عن ابن أبي نجيح عن مخاليد قال: الفهد من الجوارح] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ چیتا شکاری جانور ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20826
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20826، ترقيم محمد عوامة 20013)
٢٠٨٢٧ - حدثنا أبو بكر]] (١) قال: نا عبد الرزاق عن معمر عن حماد قال: لا بأس بصيد الفهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ چیتے کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20827
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20827، ترقيم محمد عوامة 20014)
٢٠٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (روّاد) (١) بن جراح عن الأوزاعي عن الزهري قال: لا بأس بصيد الفهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ چیتے کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20828
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20828، ترقيم محمد عوامة 20015)
٢٠٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا معاذ بن معاذ قال: أخبرنا أشعث عن الحسن قال: الفهد والشاهين بمنزلة الكلب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چیتا اور شاہین کتے کی طرح ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20829
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20829، ترقيم محمد عوامة 20016)
٢٠٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا المحاربي عن الشيباني عن حماد عن إبراهيم أنه كان يكره صيد الكلب والفهد إذا (أكلا) (١) منه، وكان لا يرى بأسا بصيد البازي إذا أكل، لأن (الكلب والفهد) (٢) (يضريان) (٣)، والباز لا (يضري) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شکار کو مکروہ قرار دیتے تھے جس میں سے کتا یا چیتا کھالے، لیکن اگر باز کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ کتا اور چیتا شکار کھانے کے شوقین ہیں جبکہ باز ایسا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20830
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20830، ترقيم محمد عوامة 20017)