٢٠٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن نافع عن ابن عمر قال في الطير: (البزاة) (١) والصقور وغيرها وما أدركت ذكاته فهو لك، وما (لم تدرك) (٢) ذكاته فلا تأكله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پرندوں، بازوں یا شکروں کے ذریعے کئے گئے شکار کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں اس شکار کو ذبح کرنے کا موقع مل جائے تو کھالو اور اگر ذبح نہ کرسکو تو پھر نہ کھاؤ۔
٢٠٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: الكلب والبازي شيء واحد، كل صيود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کتا ہو یا باز سب کا ایک حکم ہے یہ سب شکاری ہیں۔
٢٠٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية ووكيع عن شعبة عن الهيثم عن طلحة ابن مصرف قال: قال خيثمة بن عبد الرحمن: هذا ما قد أثبت لك أن (الصقور والبازي) (١) من (الجوارح) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خثیمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شکرا اور باز سب شکاری ہیں۔
٢٠٨١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن وهيب عن يونس عن الحسن أنه لم ير بأسًا بصيد (البازي) (١) والصقر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ باز اور شکرے کے شکار میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٠٨١١ - [حدثنا أبو بكر قال: نا معاذ (أنا) (١) أشعث عن الحسن أنه كان يقول في (الصقر) (٢) والبازي بمنزلة الكلب] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ باز اور شکرا کتے کی طرح ہیں۔
٢٠٨١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن حجاج عن القاسم عن مجاهد: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [المائدة: ٤]، قال: من الطير والكلاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نے آیت قرآنی { وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِینَ } کی تفسیر میں پرندوں اور کتوں کا ذکر کیا ہے۔