١٩١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم عن عمر وعبد اللَّه في البرية قالا: تطليقة، وهو أملك بها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی کو رجوع کا حق ہوگا۔
١٩١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن عن علي قال: هي ثلاث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
١٩١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) هشيم بن بشير عن منصور عن الحسن قال: هي ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
١٩١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن ابن أبي خالد عن الشعبي قال: كان يقول: هي واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو ایک طلاق ہوگی۔
١٩١٥٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: هو كما قال] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو کہا ہے وہی ہوگا۔
١٩١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إن نوى واحدة فواحدة، وإن نوى ثنتين (فثنتان) (١) وإن نوى ثلاثًا فثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو اگر ایک کی نیت کی تو ایک، دو کی نیت کی تو دو اور تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
١٩١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن وردان (عن) (١) برد عن مكحول في البرية قال: هي ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو تین طلاقیں ہوں گی۔
١٩١٥٨ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الصمد بن عبد الوارث عن وهيب عن ابن طاوس عن أبيه في البرية قال: ما نوى] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تونیت کا اعتبار ہوگا۔
١٩١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أبي المنهال الطائي قال: سألت الشعبي عن رجل قال لامرأته: (برئت) (١) منك قال: (نيته) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تونیت کا اعتبار ہوگا۔
١٩١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو قال: سئل جابر بن زيد عن رجل لزمته امرأته تسأله الطلاق فقال: اذهبي فأنا منك بريء وأنت مني بريئة، ولا ينوي الطلاق حينئذ، قال: إن لم يكن نوى الطلاق فليس (بطلاق) (٢) وإن كان نوى الطلاق فهي واحدة، وله أن يراجعها في عدتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کی بیوی اس سے طلاق پر اصرار کرے اور وہ اس سے کہے کہ جا تو میری طرف سے آزاد ہے اور میں تیری طرف سے آزاد ہوں اور وہ طلاق کی نیت نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر طلاق کی نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی اور اگر طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی اور اسے عدت میں رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
١٩١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم قال في البرية: إن نوى الطلاق فأدنى ما يكون من نيته في ذلك واحدة (بائنة) (١)، إن (شاءت) (٢) وشاء (تزوجها) (٣) وإن نوى ثلاثًا (فثلاث) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو طلاق کی نیت کرنے کی صورت میں کم از کم ایک طلاق بائنہ تو واقع ہوجائے گی اور اگر دونوں چاہیں تو آدمی اس سے شادی کرسکتا ہے اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
١٩١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر (قال) (١): هي ثلاث، (لا) (٢) تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بریء الذمہ کہا تو یہ تین طلاقیں ہیں اور یہ عورت اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔
١٩١٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة (عن) (١) زيد بن ثابت أنه كان يقول: البرية ثلاث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کو بری اور آزاد کہنا تین طلاقوں کے قائم مقام ہے۔