١٨٨٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم عن عابس (بن) (١) ربيعة عن علي قال: كل طلاق جائز، إلا طلاق المعتوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ناقص العقل کی طلاق کے علاوہ ہر طلاق درست ہے۔
١٨٨٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن الأعمش عن إبراهيم عن عابس ابن ربيعة قال: سمعت عليًا يقوله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٨٨٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن (أبي إسحاق) (١) عن إبراهيم ⦗١٣٧⦘ قال: (قال علي) (٢): كل طلاق جائز، إلا طلاق المعتوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ناقص العقل کی طلاق کے علاوہ ہر طلاق درست ہے۔
١٨٨٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو بكر الحنفي عن أسامة عن نافع أن (المجبر) (٢) بن عبد الرحمن طلق امرأته وهو معتوه (فأمر) (٣) ابن عمر أن (تعتد) (٤) فقيل له: إنه معتوه فقال: إني لم أسمع اللَّه استثنى لمعتوه طلاقا ولا غيره (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو ناقص العقل ہوجانے کی حالت میں طلاق دی تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی بیوی کو عدت گزارنے کا حکم دیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ توناقص العقل ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ناقص العقل یا کسی اور کی طلاق کو مستثنیٰ قرار دیا ہو۔
١٨٨٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل عن الشعبي قال: ليس لمعتوه ولا لصبي طلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ناقص العقل اور بچے کی طلاق نہیں ہوتی۔
١٨٨٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا طلق المعتوه (١) في (حال) (٢) إفاقته؟ قال: (جاز) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ناقص العقل شخص نے افاقہ کی حالت میں طلاق دی تو اس کی طلاق واقع ہوجائے گی۔
١٨٨٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: طلاقه ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتوہ کی طلاق کوئی چیز نہیں ہے۔
١٨٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا الفضل بن دكين عن إسرائيل عن أبي حصين عن شريح قال: (لا) (١) يجوز (طلاقه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتوہ کی طلاق کوئی چیز نہیں ہے۔
١٨٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن جويبر عن الضحاك قال: لا يجوز طلاقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتوہ کی طلاق کوئی چیز نہیں ہے۔
١٨٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: (١) ليس له طلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتوہ کی طلاق کوئی چیز نہیں ہے۔
١٨٨٨١ - حدثنا أبو بكر قال: (نا وكيع) (١) (قال: نا) (٢) سفيان عن منصور (٣) إبراهيم قال: كان يقال: كل الطلاق جائز إلا طلاق المعتوه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتوہ کے علاوہ ہر ایک کی طلاق جائز ہے۔
١٨٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي قال: ليس لمعتوه طلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتوہ کی طلاق کوئی چیز نہیں ہے۔