١٨٨٦٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: لا يجوز طلاق المجنون] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون کی طلاق درست نہیں۔
١٨٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى (عن داود) (١) عن الشعبي قال: المجنون لا يجوز طلاقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون کی طلاق درست نہیں۔
١٨٨٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن أبان بن عثمان عن عثمان قال: ليس لمجنون ولا (لسكران) (١) طلاق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون اور نشہ میں مبتلا کی طلاق درست نہیں۔
١٨٨٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن هارون قال: سألت ابن سيرين عن طلاق المجنون فقال: ليس (بشيء) (١) والسلطان ينظر فيه (يسأل) (٢) ⦗١٣٦⦘ (البينة) (٣) أنه طلق و (تصبر) (٤) يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہارون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے مجنون کی طلاق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ سلطان اس میں غور فکرکرے گا اور گواہی طلب کرے گا کہ اس نے طلاق دی ہے اور قسم کا انتظار کرے گا۔
١٨٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو قال: سئل جابر عن رجل طلق امرأته وهو مجنون حين أخذه جنونه، قال: لا يجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رحمہ اللہ سے مجنون کی طلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی درست نہیں۔
١٨٨٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: (لا) (١) يجوز طلاق المجنون إذا (أخذته) (٢) فإذا صح فهو جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون کی طلاق درست نہیں، جب وہ صحیح ہوجائے تو اس کی طلاق درست ہے۔