کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا آدمی اپنی باندی کے پاس آنے سے پہلے بھی اجازت طلب کرے گا؟
١٨٥٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) سفيان بن (عيينة) (٢) عن (عبيد اللَّه) (٣) بن أبي يزيد سمع ابن عباس يقول: إنه لم يؤمر بها أكثر الناس: الإذن، وإني آمر جاريتي (هذه) (٤) أن تستأذن علي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ باندی کے پاس جانے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، لوگوں نے تو بہت زیادہ اجازت مانگنا شروع کردی ہے، میں اپنی باندی کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اجازت لے کر میرے پاس آئے۔
١٨٥٤٣ - حدثنا أبو خالد عن (عبد الملك) (١) عن عطاء (عن ابن عباس) (٢) قال: غلب الشيطان (الناس على الاستئذان) (٣) في (الساعات) (٤). . ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ﴾ [النور: ٥٨] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے کے معاملے میں شیطان لوگوں پر غالب آگیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ }
١٨٥٤٤ - [حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن محمد في قوله: ﴿وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ﴾، قال: كان] (١) (أهلنا) (٢) يعلمونا أن نسلم قال: فكان أحدنا إذا جاء (يقول) (٣): السلام عليكم، أيدخل فلان؟.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ہمارے گھر والے ہمیں سلام کرنا سکھایا کرتے تھے، ہم میں سے جب کوئی آتا تو السلام علیکم کہتا اور ساتھ کہتا کہ فلاں داخل ہوجائے ؟
١٨٥٤٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حصين عن أبي عبد الرحمن قال: نزلت في النساء: ﴿لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
١٨٥٤٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن موسى بن أبي عائشة عن الشعبي: ﴿لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾، قال: ليست بمنسوخة، قلت: فإن الناس لا يعملون بها، قال: اللَّه المستعان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } منسوخ نہیں ہے، میں کہتا ہوں کہ لوگ اسے جانتے نہیں ہیں اور اللہ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔
١٨٥٤٧ - حدثنا ابن نمير عن حنظلة قال: سمعت القاسم وسئل عن الإذن فقال: استأذن عند كل عورة، ثم هو طواف بعدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ سے اذن کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر پردے والی چیز سے اجازت طلب کرو پھر اس کے بعد وہ چکرلگانے والا ہے۔