١٤٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه عن علي: أنه كان يكره أن (تتلثم) (١) (المحرمة) (٢) (تلثمًا) (٣)، ولا بأس أن (تسدله) (٤) على وجهها (ويكره القفازين) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ محرمہ عورت کے چہرے کے ڈھانپنے کو ناپسند کرتے تھے، اور فرماتے کہ اس میں کو کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ چہرے پر کپڑا لٹکا لے، اور دستانے استعمال کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
١٤٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: تلبس المحرمة ما شاءت من الثياب إلا البرقع والقفازين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراھیم فرماتے ہیں کہ محرمہ جو چاہے کپڑے استعمال کرے سوائے برقع اور دستانوں کے۔
١٤٨١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عبد الملك عن عطاء قال: تلبس المحرمة ما شاءت من الثياب إلا البرقع والقفازين] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی یہی مروی ہے۔
١٤٨١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يزيد (عن) (١) مجاهد قال: تلبس ما شاءت إلا البرقع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ برقع کے علاوہ جو چاہے پہن سکتی ہے۔
١٤٨١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن (الحسن وعطاء قالا) (١): تلبس القفازين والسراويل (و) (٢) لا تبرقع ⦗٢٨٤⦘ (ولا تلثم) (٣)، وتلبس ما شاءت من الثياب، إلا ثوبًا ينفض عليها ورسًا أو (زعفرانًا) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء ارشاد فرماتے ہیں کہ محرمہ دستانے اور شلوار پہن سکتی ہے، لیکن برقع نہ پہنے اور چہرے کو نہ ڈھانپے، اور جونسے کپڑے چاہے استعمال کرے سوائے ان کپڑوں کے جن کو ورس یا زعفران سے رنگا ہو۔
١٤٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فضيل بن غزوان عن نافع عن ابن عمر: أنه كره البرقع والقفازين للمحرمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما محرمہ کے لیے برقعہ اور دستانوں کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے۔
١٤٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد (و) (١) (عبيد) (٢) اللَّه (عن نافع) (٣) عن ابن عمر قال: لا تلبس القفازين ولا تلبس ثوبًا مسه (ورس) (٤) ولا زعفران (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محرمہ دستانے نہ پہنے، اور وہ لباس استعمال نہ کرے جس کو زعفران یا ورس لگا ہو۔
١٤٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن زمعة عن سلمة ابن وهرام عن عكرمة عن ابن عباس قال: تلبس المحرمة القفازين والسراويل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ محرمہ دستانے اور شلوار استعمال کرسکتی ہے۔
١٤٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن القفازين، فقالا: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دستانوں کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
١٤٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن نافع عن ابن عمر قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ ينهى النساء في الإحرام عن القفازين والنقاب، وما (مسه) (١) الورس والزعفران من الثياب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانوں اور نقاب سے منع فرمایا، اور ان کپڑوں سے جن کو ورس یا زعفران لگا ہو۔
١٤٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم عن عائشة قالت: تلبس المحرمة ما شاءت من الثياب إلا البرقع والقفازين ولا (تنتقب) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ محرمہ برقع اور دستانوں کے علاوہ جو چاہے کپڑا استعمال کرے اور وہ نقاب نہ اوڑھے۔