١٤٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الهيثم عن إبراهيم قال: سألته عنه (يعني) (١) الخاتم (للمحرم) (٢) قال: لا بأس، قد كنا نطوف البيت وهو علينا نحفظ به الأسبوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراھیم سے دریافت کیا گیا کہ محرم شخص کے لیے انگوٹھی کا استعمال کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، ہم لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے اور ہمارے پاس انگوٹھی ہوتی ہم اس سے طواف کے چکر گننے میں مدد حاصل کرتے۔
١٤٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن (الغاز) (١) عن عطاء قال: لا بأس بالخاتم للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم شخص اگر انگوٹھی استعمال کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٤٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لا بأس بالخاتم للمحرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔
١٤٨٠٣ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن شعبة عن منصور عن مجاهد قال: لا بأس بالخاتم للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی یہی مروی ہے۔
١٤٨٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (المحاربي) (١) عن العلاء عن عطاء قال: لا بأس بالخاتم للمحرم] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی یہی مروی ہے۔
١٤٨٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالم بن عبد اللَّه يلبس خاتمه وهو محرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو حالت احرام میں انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا۔
١٤٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن إسماعيل بن عبد الملك قال: رأيت (على) (١) سعيد بن جبير خاتمًا وهو محرم (وعلى) (٢) عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عطاء کو حالت احرام میں انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا۔
١٤٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عطاء قال: لا بأس بالخاتم للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم شخص انگوٹھی پہن لے اس میں کوئی حرج نہیں۔