١٤٢٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن طاوس قال: لا تركب البدنة إلا مزمومة (أو مخطومة) (١) أو مخشوشة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اس اونٹ پر سوار مت ہو جس کو نکیل نہ ڈالی ہو۔
١٤٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن نمير عن) (١) عبد الملك عن عطاء قال: (يفطر ويخطم) (٢) إذا خاف عليها أن تهلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب اونٹ کے ہلاک ہونے کا خوف ہو تو اس کو لگام ڈال کر اس پر قطران (درخت کے پتوں سے بنی ہوئی ایک خاص دوائی) کو ملا جائے۔
١٤٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن ابن الأسود عن أبيه أنه كان [يخطم (بدنته) (١) وكان] (٢) ابن الزبير يفعل ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود اونٹ کو نکیل ڈالتے اور حضرت ابن زبیر بھی اسی طرح کرتے۔
١٤٢٥٤ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل (عن جابر) (٢) (عن أبي جعفر) (٣) قال: أخطم (البدنة) (٤) وأضربها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر ارشاد فرماتے ہیں کہ اونٹ کو نکیل ڈالو اور اس کو مارو۔
١٤٢٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن (ثوير) (١) عن أبيه: أن علقمة والأسود وعمرو بن ميمون كانوا لا يزمون رواحلهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ، حضرت اسود، اور حضرت عمرو بن میمون اپنی سواریوں کو نکیل نہ ڈالتے۔